خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 155
خطبات مسرور جلد ہشتم 155 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 مارچ 2010 اب دیکھیں یہاں اِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ قرآن شریف کی اپنی ترتیب ہے۔جب یہ آیت انہیں پیش کی جاتی اور اس سے استدلال کیا جاتا تو محض جوش سے اس فقرہ کو آگے پیچھے کر دیتے اور کہتے تھے کہ متوفيك كو وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ کے بعد رکھتے ہیں کہ اصل ترتیب یہ ہے۔انہیں کوئی خوف نہیں تھا کہ قرآن کریم کی کسی آیت میں تبدیلی کر رہے ہیں۔کچھ عرصہ تو وہ اپنے جذبہ اور جوش میں مُتوفِّيكَ کو زبانی موخر کرتے رہے۔بعد میں پھر انہوں نے اسی جذبے کی شدت سے علماء سے یہ مشورہ کرناشروع کر دیا کیوں نہ قرآنِ کریم کے تازہ ایڈیشن میں اس فقرہ کو مؤخر print کر دیا جائے، طبع کر دیا جائے۔علماء نے کہا کہ بے شک یہ لفظ ہے تو موخر لیکن اگر اس کو طباعت میں پیچھے کیا گیا تو لوگوں میں شور پڑ جائے گا۔اور بہت سخت اعتراض ہو گا۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ کچھ بھی ہو میں یہ کام خود کروں گا۔چنانچہ انہوں نے وعظ کر کے بہت سا روپیہ جمع کیا۔اور امر تسر پہنچے لیکن وہاں تمام پر میں والوں نے اس طرح تحریف کرنے سے قرآن کریم کو طبع کرنے سے انکار کر دیا۔اس پر وہ ایک سکھ پر یس والے کے پاس گئے اور بہت سا روپیہ اس غرض کے لئے پیش کیا لیکن اس نے بھی مسلمانوں کے ڈر سے جرات نہ کی اور انکار کر دیا۔مگر مولوی صاحب مذکور کے سر میں کچھ ایسا جنون سمایا ہوا تھا کہ انہوں نے اس غرض کے لئے پر لیس کے پتھر وہاں سے خرید لئے اور یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنے گاؤں میں طباعت کا کام کر کے تحریف کے ساتھ قرآنِ کریم طبع کروائیں گے۔لیکن ان کے گھر پہنچنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عجیب پُر ہیبت نشان ظاہر ہوا کہ مولوی صاحب اور ان کے اہل و عیال یکا یک ایک طاعون کی لپیٹ میں آگئے اور ایک ہی رات میں گھر کے سب لوگ جو تھے وہ موت کی نذر ہو گئے۔(ماخوذ از حیات قدسی حصہ چہارم صفحہ 391 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) تو یہ نام نہاد ملاں اور عالم، جو تقویٰ سے بالکل عاری ہیں حضرت مسیح موعود کی دشمنی میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں تحریف کرنے سے بھی نہیں ڈرتے۔اور الزام ہے احمدیوں پر۔بہر حال اللہ تعالیٰ بھی اپنا حساب عجیب طریقے سے لیتا ہے۔اور جو قرآن کریم کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا ہے اس کو بھی کس طرح پورا کیا۔ہلکی سی بھی تحریف کسی ایسے شخص کے ہاتھ سے بھی کرنی گوارا نہیں کی جو بظاہر کلمہ گو کہلا تا تھا اور فوراً اس کو سزادی۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : اگر خدا تعالیٰ کی کچھ بھی عظمت ہو اور مرنے کا خیال اور یقین ہو تو ساری سستی اور غفلت جاتی رہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کی عظمت کو دل میں رکھنا چاہئے اور اس سے ہمیشہ ڈرنا چاہئے۔اس کی گرفت خطر ناک ہوتی ہے۔وہ چشم پوشی کرتا ہے اور درگزر فرماتا ہے۔لیکن جب کسی کو پکڑتا ہے تو پھر بہت سخت پکڑتا ہے۔یہاں تک کہ لا