خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 154
خطبات مسرور جلد ہشتم 154 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مارچ2010 خراب کر دیا۔ہم نے اس مخالفت کو صبر واستقلال سے بر داشت کیا۔اس موقع پر علاقہ کے ایک بھٹی رئیس حاتم علی نامی نے تو مخالفت انتہا کو پہنچادی۔اور جوش عیض میں نہ صرف یہ کہ عام احمدیوں کو گالیاں دیں، بلکہ حضرت مولانا صاحب اور سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی بڑی سب و شتم ( بیہودہ رہنی ) کا نشانہ بنایا۔اور ان بزرگ ہستیوں کی سخت ہتک اور توہین کا ارتکاب کیا۔کہتے ہیں جب اس کی بد زبانی کی انتہا ہو گئی تو حضرت مولانا راجیکی صاحب نے حاضرین مجلس کے سامنے ان کو ( مخالفین کو ان الفاظ میں مخاطب کیا کہ حاتم علی! دیکھ اس قدر ظلم اچھا نہیں۔تیرے جیسوں کو خدا تعالی زیادہ مہلت نہیں دیتا۔یاد رکھ اگر تو نے توبہ نہ کی تو جلد پکڑا جائے گا۔حضرت مولوی صاحب مجمع عام میں یہ الفاظ کہہ کر اور احباب جماعت کو صبر کرنے اور اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ کی دعا پڑھتے رہنے کی تلقین کر کے واپس قادیان تشریف لے گئے۔حاکم علی آپ کے جانے کے معابعد بعارضہ سل بیمار ہو گیا اور مقامی طور پر علاج کی کوشش بھی کی اور میو ہسپتال کے ماہر ڈاکٹروں سے علاج بھی کروایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور چار ماہ کی تکلیف دہ بیماری کے بعد یہ اپنی تمام تر دولت اور جاہ و جلال کے باوجو د فوت ہو گیا، اس دنیا سے چلا گیا۔حضرت مولا ناراجیکی صاحب فرماتے ہیں: (ماخوذ از حیات قدسی حصہ پنجم صفحہ 637-639 جدید ایڈ یشن مطبوعہ ربوہ ) ایک واقعہ ضلع سیالکوٹ تحصیل پسرور کے ایک گاؤں کا ہے کہ وہاں پر حکیم مولوی نظام الدین صاحب ایک احمدی رہتے تھے۔انہوں نے ملاقات کے وقت مجھے سنایا کہ میرے رشتہ داروں میں سے اسی علاقے کے ایک گاؤں میں ایک مولوی صاحب رہتے تھے جو واعظ بھی تھے۔اور حیات مسیح کے عقیدہ کے اس قدر حامی تھے کہ شب و روز ان کی بحث کا آغاز اسی موضوع پر ہوتا تھا کہ عیسیٰ زندہ ہیں۔جب ان کی خدمت میں آیت يُعِیسَی انّی مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ اِلَى پیش کی جاتی تھی۔وہ پوری آیت اس طرح ہے۔اس کا اگلا حصہ بھی تب ہی سمجھ میں آئے گا جب پوری آیت سامنے ہو۔کہ اِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ ثُمَّ إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَاحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (آل عمران : 56) جب اللہ تعالیٰ نے کہا اے عیسی ! یقیناً میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیر ارفع کرنے والا ہوں اور تجھے ان لوگوں سے نتھار کر الگ کرنے والا ہوں جو کافر ہوئے اور ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا ہے قیامت کے دن تک بالا دست کرنے والا ہوں۔پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے جس کے بعد میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔