خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 153

153 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مارچ2010 خطبات مسرور جلد ہشتم بخش کے بیٹے کا) ”خطبہ نکاح پڑھانے کے بعد میں بارات کے ساتھ گیا۔واپسی پر معلوم ہوا کہ اس شادی شدہ لڑ کے کے سوا میاں میراں بخش صاحب کے سب لڑکے گونگے اور بہرے ہیں۔مجھے خیال آیا کہ یہ ابتلا بلا وجہ نہیں ہو سکتا۔(بہت خوف والا واقعہ ہے۔) چنانچہ میں نے میاں میراں بخش صاحب سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میری سالی کا ایک بچہ گونگا اور بہرہ تھا تو میں نے بطور استہزاء کے اس کو کہنا شروع کیا کہ اگر بچہ جنا تھا تو کوئی بولنے سننے والا بچہ جنتی۔یہ کیا بہرا اور گونگا اور ناکارہ بچہ جنا ہے۔جب میں تمسخر میں حد سے بڑھ گیا تو میری سالی کہنے لگی ”خدا سے ڈرو، ایسانہ ہو کہ تمہیں ابتلا آ جائے۔اللہ تعالیٰ کی ذات تمسخر کو پسند نہیں کرتی۔“ اس پر بھی میں استہزاء سے باز نہ آیا۔بلکہ ان کو کہتا کہ دیکھ لینا میرے ہاں تندرست اولاد ہو گی۔میری یہ بیا کی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنی اور میرے ہاں گونگے اور بہرے بچے پیدا ہونے لگے۔میں نے اس ابتلاء پر بہت استغفار کیا۔اور سیدنا حضرت مسیح موعود کے حضور بھی بار بار دعا کے لئے عرض کیا۔اللہ تعالیٰ نے میری عاجزی کو قبول فرمایا اور آخری بچہ تندرست پیدا ہو ا جس کی شادی اب ہو رہی ہے۔“ حیات قدسی حصہ چہارم صفحہ 300-301 مطبوعہ ربوہ ) پس مذاق میں بھی ایسی باتیں (نہیں کہنی چاہئیں جن کو بات کرنے والا انسان تو ہلکا پھلکا سمجھ رہا ہوتا ہے۔لیکن دوسرے کے دل پر وہ شدید چوٹ لگانے کا باعث بن جاتی ہے اور کبھی ایسی آہ بن جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو ہلا دیتی ہے اور اس دنیا میں پھر حساب شروع ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور حقیقی تقویٰ دلوں میں قائم فرمائے۔حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب ایک اور واقعہ بیان فرماتے ہیں:۔1938 ء کا واقعہ ہے کہ ہمارے حلقہ انتخاب ( حافظ آباد) میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کی ممبری کے لئے دو امیدوار کھڑے ہوئے۔یعنی ایک چوہدری ریاست علی چٹھہ تھے اور دوسرے میاں مراد بخش صاحب بھٹی۔یہ دونوں امید وار علاقہ کے احمدیوں سے ووٹ دینے کے لئے درخواست کر رہے تھے۔لیکن محترم میاں سر دار خان صاحب رضی اللہ عنہ ان کو یہی جواب دیتے تھے کہ جب تک حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ( خلیفہ ثانی) کی طرف سے کوئی فیصلہ صادر نہ ہو وہ کسی امیدوار کے حق میں وعدہ نہیں کر سکتے۔حضرت مولانا راجیکی صاحب خلیفۃ المسیح الثانی کے ارشاد کے ساتھ تشریف لے گئے اور گاؤں کی بھری مجلس میں جس میں علاوہ احمدیوں کے بہت سے غیر احمدی بھی موجود تھے یہ ہدایت سنائی کہ اسمبلی کی نشست کے لئے ووٹ چوہدری ریاست علی صاحب چٹھہ کو دئے جائیں۔( ان دو میں سے ایک کو )۔یہ خلاف توقع فیصلہ سن کر علاوہ احمدیوں کے تمام حاضرین جو چو ہدری ریاست علی کے مخالف تھے غصہ سے تلملا اٹھے اور احمدیوں کے خلاف سب و شتم اور مخالفانہ مظاہروں سے اس علاقہ کی فضا کو