خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 152

خطبات مسرور جلد ہشتم 152 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مارچ2010 کے بعد سے میرے کاروبار میں غیر یقینی طور پر برکت پڑگئی ہے۔میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اتنی برکت پڑے گی۔اس بات نے مجھے اس بات کی طرف متوجہ کیا ہے۔اور آج میں پھر ان کی تحریک میں چندہ دیتی ہوں اور ساتھ ہی کہا کہ میں جماعت میں بھی شامل ہوتی ہوں اور بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئی۔عموماتو ہم غیر احمدیوں سے چندہ نہیں لیتے لیکن افریقہ میں بعض ایسے تعلقات بن جاتے ہیں کہ وہ مجبور کر دیتے ہیں کہ آپ لوگ لیں۔کیونکہ وہ دینا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چندے کا صحیح مصرف جماعت احمدیہ کرتی ہے۔جب میں وہاں گھانا میں ہو تا تھا۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ بعض لوگ جو زمیندار تھے وہ اپنی زکوۃ لے کر آجاتے تھے۔اور میرے پوچھنے پر کئی دفعہ بعض لوگوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے مولوی کو دیں گے تو وہ کھاپی جائے گا۔آپ لوگ کم از کم صحیح استعمال تو کریں گے۔تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کی نیکی کو اس طرح نوازا کہ نہ صرف اس کو مالی کشائش عطا فرمائی بلکہ اس روحانی مائدے سے بھی فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائی جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لے کر آئے۔حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی بیان کرتے ہیں کہ ” حافظ نور احمد صاحب سوداگر پشمینہ لدھیانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے اور مخلص خدام میں سے ہیں۔ان کو اپنے تجارتی کاروبار میں ایک بار سخت خسارہ ہو گیا اور کاروبار قریباً بند ہی ہو گیا۔انہوں نے چاہا کہ وہ کسی طرح کسی دوسری جگہ چلے جاویں اور کوئی اور کاروبار کریں تا کہ اپنی مالی حالت کی اصلاح کے قابل ہو سکیں۔وہ اس وقت کے گئے ہوئے گویا اب واپس آ سکے ہیں۔( کافی عرصے بعد آئے تھے۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی زندگی میں برابر خط و کتابت رکھتے تھے۔( آپ کی وفات کے بعد وہ آئے تھے۔) اور سلسلہ کی مالی خدمت اپنی طاقت اور توفیق سے بڑھ کر کرتے رہے۔اور آج کل قادیان میں ہی مقیم ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی داد ود ہش اور جو دو سخا کے متعلق میں تو ایک ہی بات کہتا ہوں کہ آپ تھوڑا دینا جانتے ہی نہ تھے۔اپنا ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے جب اس سفر کا ارادہ کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کچھ روپیہ مانگا۔حضور ایک صند و قیچی جس میں روپیہ رکھا کرتے تھے۔اٹھا کر لے آئے اور میرے سامنے صند و قیچی رکھ دی کہ جتنا چاہو لے لو اور حضور کو اس سے بہت خوشی تھی۔میں نے اپنی ضرورت کے موافق لے لیا۔گو حضور یہی فرماتے رہے کہ سارا ہی لے لو۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود از شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی حصہ سوم صفحہ 316-317) پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ سرِیعُ الْحِسَابِ بھی ہے کہ ایک تو یہ کہ بے حساب دیتا ہے، بعض دفعہ حساب لیتا بھی ہے۔اور بعض دفعہ آخرت میں جو حساب لینا ہے اس کے علاوہ اس دنیا میں ہی حساب لے لیتا ہے۔اسی بارہ میں بعض واقعات ہیں۔حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب فرماتے ہیں کہ (حضرت مسیح موعود کے صحابی میاں میراں