خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 150

خطبات مسرور جلد ہشتم 150 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 مارچ 2010 اندر تشریف لے گئے۔( اور لکھنے والے لکھتے ہیں کہ) انگور ان کے گرتے میں اور پونے پانچ روپے ان کے ہاتھ میں (ماخوذ از مجد داعظم جلد دوم صفحہ 1275 از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مطبوعہ لاہور ) (ماخوذ از الحکم جلد 42 شمارہ نمبر 15-18 مورخہ 28 مئی تا7 جون 1939ء ص 23 بقیہ ) رہ گئے۔“ 66 حکیم عبد الرحمن صاحب آف گوجرانوالہ کی ایک روایت ہے کہ: ان کے بیٹے مکرم عبد القادر صاحب سے روایت ہے کہ ”والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں قادیان گیا اور دو چار روز ٹھہرنے کے بعد اجازت مانگی۔حضور نے فرمایا کہ ابھی ٹھہر و۔دو چار روز کے بعد پھر گیا۔حضور نے پھر بھی یہی فرمایا کہ ابھی اور ٹھہر و۔دو تین دفعہ ایسا ہی فرمایا۔یہاں تک کہ دو اڑھائی مہینے گزر گئے۔پھر میں نے عرض کیا کہ حضور ! اب مجھے اجازت دیں۔فرمایا کہ بہت اچھا۔میں نے کتاب ازالہ اوہام کے متعلق حضور کی خدمت میں عرض کیا۔حضور نے میر مہدی حسن شاہ صاحب کے نام ایک رقعہ لکھ دیا۔میں وہ رقعہ لے کر گیا تو میر صاحب نے کہا لوگ یو نہی تنگ کرتے ہیں اور مفت کتابیں مانگتے ہیں حالانکہ روپیہ نہیں ہے اور ابھی فلاں فلاں کتاب چھپوانی ہے۔میں نے کہا۔پھر آپ میر ارقعہ دے دیں۔انہوں نے رقعہ واپس دے دیا۔میں حضرت صاحب سے واپسی کے لئے اجازت لینے گیا۔حضور نے پوچھا کہ کیا کتا بیں آپ کو مل گئی ہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضور! وہ تو اس طرح فرماتے تھے۔یہ سن کر حضرت صاحب ننگے پیر میرے ساتھ چل پڑے۔اور میر صاحب کو فرمایا کہ آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔جس کا یہ کام ہے وہ اس کو ضرور چلائے گا۔آپ کو میر ارقعہ دیکھ کر فورا کتابیں دے دینی چاہئے تھیں۔آپ ابھی سے گھبراگئے۔یہاں تو بڑی مخلوق آئے گی اور خزانے تقسیم ہوں گے۔اس پر انہوں نے کتابیں دے دیں اور میں لے کر واپس آگیا“۔(رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد 10 صفحہ 122-123 روایات حضرت حکیم عبد الرحمان صاحب) اسی طرح ایک روایت منشی غلام حیدر صاحب سب انسپکٹر اشتمال اراضی گوجرانوالہ کی ہے۔یہ دو روایتیں میں نے رجسٹر روایات صحابہ سے لی ہیں۔انہوں نے منشی احمد دین صاحب اپیل نویس گوجر انوالہ کی روایت بیان کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں جب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا تو عموماً حضور کے سامنے ہو کر نذر پیش نہیں کیا کرتا تھا۔ایک دفعہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے مجھے نصیحت کی کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔سامنے ہو کر نذر پیش کرنی چاہئے۔کیونکہ بعض اوقات ان لوگوں کی جب نظر پڑ جاتی ہے تو انسان کا بیڑہ پار ہو جاتا ہے۔پھر ایک دفعہ میں نے سامنے ہو کر مالی تنگی کی وجہ سے کم نذرانہ پیش کیا۔حضور نے فرمایا ! اللہ تعالیٰ برکت دے“۔چنانچہ اس واقعہ کے بعد ایک شخص نے مجھے بہت سے روپے دیئے۔میں نے بہت انکار کیا۔مگر اس نے کہا کہ میں نے ضرور آپ کو یہ رقم دینی ہے۔چنانچہ اس رقم سے میری مالی تنگی دور ہو گئی۔(رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد 10 صفحہ 125 روایات حضرت منشی غلام حیدر صاحب) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کی برکت سے انہوں نے مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 4) کا نظارہ دیکھا۔