خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 151
خطبات مسرور جلد ہشتم 151 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 مارچ 2010 آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کی اشاعت کے لئے جو لوگ قربانیاں کرتے ہیں اور اپنی رقمیں پیش کرتے ہیں۔اسلام کا درد رکھنے والے جو ہیں اس کے لئے قربانیاں کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں اور قربانیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی ایسے نظارے دکھلاتا ہے۔پرانے احمدیوں کی مثالیں تو میں مختلف وقتوں میں بتاتا رہتا ہوں۔نئے احمدیوں کے بھی بعض ایمان افروز واقعات ہوتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔اس کی دو مثالیں میں آج پیش کرتا ہوں۔آئیوری کوسٹ کے شہر بشم (Bassam) کے ایک نو مبائع احمدی مکرم یا گو علیڈو (Yago Alido) صاحب کو جماعتی مالی نظام کے تحت چندے کی شرح اور ترتیب بتائی گئی تو اگلے روز وہ خود اپنی تنخواہ کے حساب سے شرح کے مطابق چندہ عام ، چندہ وقف جدید اور تحریک جدید ادا کرنے آگئے جو کہ تقریباً 50 پاؤنڈ بن رہا تھا۔یہ ان کے لئے بہت بڑی رقم ہے۔یہ ان کا احمدیت قبول کرنے کے بعد پہلا چندہ تھا۔بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ ابھی ہمارا معلم اس چندے کی رسید کاٹ رہا تھا کہ ان صاحب کو ایک دوست کا فون آیا کہ وہ قرضہ جو میں نے تم سے دو سال قبل لیا تھا۔کل آکے مجھ سے وصول کر لو۔یا گو علیڈ و صاحب حیران ہو کر بتانے لگے کہ یہ شخص قرض لے کر ایسا رویہ اپنائے ہوئے تھا کہ مجھے اس قرض کی وصولی کی امید ہی نہیں تھی۔اور یہ صرف اور صرف چندہ دینے کی وجہ سے ہوا ہے۔اور صرف یہی نہیں کہ یہ قرض مل گیا بلکہ چند روز کے بعد ان کو حکومت کی طرف سے ایک خط ملا کہ نئے سال سے نہ صرف آپ کی ملازمت میں ایک گریڈ کا اضافہ ہو گیا ہے بلکہ آپ کی تنخواہ میں پچاس فیصد کا اضافہ بھی ہو گیا ہے۔چنانچہ جب انہوں نے اپنے نئے اضافے والی تنخواہ وصول کی تو فوراً اپنا چندہ شرح کے مطابق ڈ گنا کر دیا۔اور اب نہ صرف وہ اپنا ماہانہ چندہ ادا کر رہے ہیں بلکہ مسجد کی تزئین خوبصورتی وغیرہ کے لئے بھی اپنی جیب سے کافی خرچ کر رہے ہیں۔اور سب کو یہ بر ملا کہتے ہیں کہ یہ سب جو خدا تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہے اس کی راہ میں مالی قربانی کرنے کے نتیجے میں ہے۔دیکھیں کس طرح اللہ تعالیٰ نئے آنے والوں کو بھی مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 4) كانه صرف نظارہ دکھاتا ہے بلکہ فیضحِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً (البقرة : 246) كا وعدہ بھی ہے ، نقد نقد پورا فرما رہا ہے۔امیر صاحب ببینن نے ایک اور واقعہ لکھا ہے کہ ریجن باسیلا کے لوکل مشنری اپنے علاقہ کے گاؤں جا پنگو (Djapengo) میں چندہ تحریک جدید کے بارہ میں بتا رہے تھے اور اس کی برکات کا ذکر کر رہے تھے تو وہاں کی ایک غیر احمدی حلیم نامی خاتون نے اس تحریک میں 500 فرانک سیفا چندہ دیا۔ایک سال کے گزرنے پر اس نے دوبارہ رابطہ کیا اور گزشتہ سال کی نسبت چار گنا مزید چندہ دیا۔اس نے بتایا کہ گزشتہ سال جب میں نے چندہ دیا تو اس