خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 149
خطبات مسرور جلد ہشتم 149 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مارچ2010 باوجو د امت کی اکثریت اسی دوڑ میں مبتلا ہے۔لیکن ایک احمدی کو اپنا عہد بیعت نبھاتے ہوئے اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی علی نام کے اُسوہ، آپ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کس طرح اپنے ساتھیوں سے ، صحابہ سے اظہار فرمایا کرتے تھے۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب اپنی کتاب ”مجد داعظم میں لکھتے ہیں کہ : سید غلام حسین صاحب نے اپنا ایک واقعہ الحکم 28 / مئی و 7 / جون 1939ء میں شائع کیا۔میں اس کا خلاصہ یہاں اپنے الفاظ میں عرض کرتا ہوں۔واقعہ یوں ہے کہ غالباً 1898ء کا ذکر ہے کہ سید غلام حسین صاحب قادیان میں تھے اور دل سے متمنی تھے کہ حضرت اقدس کوئی خدمت ان کے سپر د کریں تو وہ خوشی سے بجالائیں۔آخر ایسا ہوا کہ ڈاک دیکھتے دیکھتے حضرت اقدس نے سید صاحب کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ یہ ایک بلٹی ہے آپ بٹالہ سے جا کر لے آئیں“۔ساتھ ہی بلٹی ان کے ہاتھ میں دے کر فرمایا کہ ”ابھی ٹھہریئے“۔پھر آپ اندر تشریف لے گئے اور پانچ روپے لا کر سید صاحب کو دیئے کہ یہ رستہ اور بلٹی کے اخراجات کے لئے ہیں۔اُن دنوں قادیان میں لگے ایک دوہی ہوا کرتے تھے اور وہ اس وقت موجود نہ تھے۔سید صاحب اس وقت 15 سالہ نوجوان تھے۔جوش خدمت میں پیدل ہی چل پڑے۔بٹالہ پہنچ کر معلوم ہوا کہ پارسل آیا ہوا ہے۔رات وہیں سرائے میں رہے۔صبح پارسل چھڑانے گئے تو معلوم ہوا کہ پارسل کا محصول جو ہے وہ بھی بھیجنے والے نے ادا کر دیا ہے۔پارسل لے کر واپس ہوئے تو یکہ والے کرایہ زیادہ مانگنے لگے۔انہوں نے کفایت شعاری کی وجہ سے ایک مزدور سے چار آنے کی اجرت ٹھہرائی اور ٹوکری اس کی بہنگی میں رکھ دی اور خود پیدل چل پڑے۔قادیان پہنچ کر حضرت کے عطا کردہ پانچ روپے میں سے چار آنے تو اس مزدور کو دیئے اور باقی پونے پانچ روپے جیب میں رکھ لئے۔یہ ٹوکری ہاتھ میں لی۔مسجد مبارک کی سیڑھیوں سے چڑھ کر زنان خانہ کے دروازے پر پہنچے اور اندر اطلاع کروائی۔حضرت اقدس فوراً باہر تشریف لائے۔انہیں دیکھ کر مسکراتے ہوئے فرمانے لگے کہ آپ آگئے ؟ ٹوکری دیکھتے ہی فرمایا کہ آپ ٹھہریں۔اندر سے جا کر ایک بڑا سا چاقو لے آئے اور اس ٹوکری کے اوپر جو ٹاٹ سلا ہوا تھا اس کو چاقو سے ایک طرف سے کاٹ کر اپنے دونوں ہاتھ ٹاٹ کے اندر داخل کر کے باہر نکالتے ہی فرمایا کہ یہ آپ کا حصہ ہے۔انہوں نے دیکھا تو وہ بڑے اعلیٰ قسم کے سبزی مائل انگور تھے۔انہوں نے جلدی میں وہ انگور اپنے گرتے میں ہی ڈلوا لئے۔اس کے بعد انہوں نے وہ پونے پانچ روپے (پانچ روپے کی اس وقت بڑی قیمت ہوتی تھی ) حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضور یہ بقایار تم ہے۔صرف چار آنے خرچ ہوئے ہیں۔اس پر حضرت صاحب نے بڑی شفقت سے فرمایا کہ ”ہم اپنے دوستوں سے حساب نہیں رکھا کرتے“۔اتنا فرمایا اور ٹوکری اٹھا کر