خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 144
خطبات مسرور جلد ہشتم 144 13 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مارچ2010 خطبہ جمعه فرمودہ مورخہ 26 مارچ 2010ء بمطابق 26 امان 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرے اور اس پر توکل کرے، اس کے لئے وہ کافی ہے۔اور اس کے لئے ایسے سامان پیدا فرماتا ہے جن کا گمان بھی انسان کی سوچ میں نہیں ہو تا۔اس وہم و گمان سے بالا مدد کے نظارے جو اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں اپنے بندوں کو اور ایمان والوں کو دکھاتا رہتا ہے اس کے چند واقعات میں آج پیش کروں گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ غیرت دکھاتے ہوئے جس طرح حساب لیتا ہے اس کے بھی بعض واقعات میں نے آج چنے ہیں۔جماعت کی تاریخ میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہت سارے واقعات ہیں۔کیونکہ آپ کی سیرت بڑی تفصیل سے لکھی گئی ہے۔چوہدری غلام محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکیم خادم علی صاحب کے ایک رشتہ دار سے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے بارہ میں سنا کہ : ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب کشمیر سے راولپنڈی کے راستے سے واپس آرہے تھے کہ دورانِ سفر روپیہ ختم ہو گیا۔( کہتے ہیں ) میں نے اس بارہ میں عرض کیا (تو) آپ گھوڑی پر سوار تھے۔آپ نے فرمایا کہ یہ گھوڑی چار پانچ صد روپے میں بیچ دیں گے ( اور ) فور ایک جائے گی اور خرچ کے لئے کافی روپیہ ہو جائے گا۔آپ نے وہ گھوڑی سات سو روپیہ میں خریدی تھی۔( وہ کہتے ہیں ) تھوڑی دُور ہی گئے تھے کہ گھوڑی کو درد قولنج ہوا پیٹ میں بڑی درد ہوئی، قولنج اسے کہتے ہیں) بہر حال راولپنڈی پہنچ کر وہ گھوڑی مرگئی۔( کہتے ہیں) تانگے والوں کو کرایہ دینا تھا۔آپ ٹہل رہے تھے ( پیسوں کی ضرورت تھی)۔میں نے عرض کی کہ ٹانگہ والے کرایہ طلب کرتے ہیں۔آپ نے نہایت رنج کے لہجہ میں فرمایا کہ نورالدین کا خدا تو وہ مرا پڑا ہے۔اب اپنے اصل خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں۔وہی کار ساز ہے۔تھوڑی دیر کے بعد ایک سکھ اپنے بوڑھے بیمار باپ کو لے کر حاضر ہوا۔آپ نے اسے دیکھ کر نسخہ لکھا ( اور بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ) اُس نے ہمیں اتنی رقم دے دی کہ جموں تک کے اخراجات کے لئے کافی ہو گئی۔(ماخوذ از حیات نور صفحہ 168-169۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)