خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 145
خطبات مسرور جلد ہشتم 145 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 مارچ 2010 تو یہ تقویٰ ہے کہ اگر غلطی سے کسی دنیاوی ذریعہ پر انحصار کیا بھی تو اس کے ضائع ہو جانے پر رونا پیٹنا شروع نہیں کر دیا۔بلکہ کامل تو کل کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہوئی، دعا کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے فوراً پھر خلاف توقع انتظام بھی فرما دیا۔جیسا کہ میں نے کہا حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی زندگی تو ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔اور ان کو پڑھا جائے تو ایمان اور یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔اسی طرح مرزا سلام اللہ صاحب ،مستری، قطب الدین صاحب دہلوی کی ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ عید الاضحیہ کے موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے گھر سے دریافت فرمایا کہ کیا کوئی کپڑے دھلے ہوئے ہیں ؟ معلوم ہوا کہ صرف ایک پاجامہ ہے اور وہ بھی پھٹا ہوا۔آپ نے اس میں آہستہ آہستہ ازار بند ڈالنا شروع کر دیا۔قادیان کا واقعہ ہے۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب ان دنوں صدر انجمن کے سیکرٹری تھے۔انہوں نے پیغام بھیجا کہ حضور نماز عید میں دیر ہو رہی ہے۔لوگوں نے قربانیاں بھی دینی ہیں۔اس لئے جلد تشریف لائیں۔فرمایا۔تھوڑی دیر تک آتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد پھر آدمی آیا۔حضور نے اسے پھر پہلے کا سا جواب دیا۔اتنے میں ایک آدمی نے آکر دروازہ پر دستک دی۔آپ نے ملازم کو فرمایا دیکھو باہر کون ہے ؟ آنے والے نے کہا۔میں وزیر آباد سے آیا ہوں۔حضرت صاحب سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔حضور نے اسے اندر بلالیا۔عرض کی کہ حضور میں وزیر آباد کا باشندہ ہوں۔حضور کے ، اناں جی کے اور بچوں کے لئے کپڑے لایا ہوں۔چونکہ رات کو یگہ نہیں مل سکا تھا، اس لئے بٹالہ ٹھہرا رہا۔اب بھی پیدل چل کر آیا ہوں۔( تو اللہ تعالیٰ نے فوراً وہاں انتظام (ماخوذ از حیات نور صفحہ 641۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) صوفی عطا محمد صاحب بھی اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت خلیفہ اول کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ عید کی صبح حضرت مولوی صاحب نے غرباء میں کپڑے تقسیم کئے حتٰی کہ اپنے استعمال کے کپڑے بھی دے دیئے۔گھر والوں نے عرض کی کہ آپ عید کیسے پڑھیں گے۔فرمایا خدا تعالیٰ خود میر ا انتظام کر دے گا۔یہاں تک کہ عید کے لئے روانہ ہونے میں صرف پانچ سات منٹ رہ گئے۔عین اس وقت ایک شخص حضرت کے حضور کپڑوں کی گٹھڑی لے کر حاضر ہوا۔حضور نے وہ کپڑے لے کر فرمایا۔دیکھو ہمارے خدا نے عین وقت پر ہمیں کپڑے بھیج دیئے۔فرمایا)۔(حیات نور صفحہ 641-642۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پس دیکھیں کس طرح خدا تعالیٰ آپ کی ضرورتوں کا خود متکفل ہو جاتا تھا اور وقت پر آپ کی تمام حاجات پوری فرماتا تھا۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میرا بڑا لڑکا عزیزم میاں