خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 143
خطبات مسرور جلد ہشتم 143 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مارچ 2010 والی ہیں اپنے ہر عمل پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔روز مرہ خود اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔عبادات کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔نماز کے قیام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور پھر اپنی اولاد کی نمازوں کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ان کی عبادات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔اس طرف بھی توجہ دینا ایک راعی کی حیثیت سے ، گھر کے نگران کی حیثیت سے تمہارا فرض ہے۔اور پھر اس میں من حیث الجماعت افراد جماعت کو توجہ دلائی گئی کہ ایک دوسرے کے لئے دعا کریں۔اپنے والدین کے لئے بھی اور تمام مومنین کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگیں جس دن کہ حساب قائم ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے کہ ربنا اغفر لي سے صرف اپنی مغفرت مراد نہیں ہے۔آگے اس کی وضاحت بھی ہوتی ہے لیکن فرمایا کہ بعض دفعہ جو واحد متکلم ہے جمع متکلم ہو جاتا ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 586،585) (ماخوذ از البدر جلد اول نمبر 9مورخہ 26 دسمبر 1902ء صفحہ 69 کالم 1) یعنی کہ جو ایک کلام کرنے والا ہے، اپنے لئے مانگنے والا ہے بول رہا ہوتا ہے تو وہ بعض صورتوں میں ایک نہیں رہتا بلکہ جمع ہو جاتا ہے۔اور یہاں یہی صورت ہے کہ پوری جماعت کے لئے دعا مانگی گئی ہے۔پورے مومنین کے لئے دعا مانگی گئی ہے۔پس اس دعا کو ہمیشہ ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تمام نیکیاں بجالانے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا اور آخرت کی حسنات حاصل کرنے کے لئے ہمیں تمام ان راستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں حقیقی راستے ہیں، جو اس طرف لے جانے والے راستے ہیں۔اسی طرح ایک اور بات کی طرف بھی اس حوالے سے توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ایک عام احمدی اور ایک عہدیدار میں بھی جو فرق ہے وہ عہدیداروں کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے اور نمازوں کے قیام کے لئے بھی اور دوسری نیکیاں بجالانے کی طرف بھی اپنے نمونے قائم کریں۔تبھی ایک عام احمدی جو ہے اس کی بھی اس طرف توجہ ہو گی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شمارہ 15 مورخہ 9اپریل تا 15 اپریل 2010 صفحہ 5 تا 8 )