خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 142

خطبات مسرور جلد ہشتم 142 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مارچ 2010 امور ہیں جس سے انسان کو آرام ملتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے وہ آخرت کے لئے کچھ کر سکتا ہے اور اس لئے ہی دنیا کو آخرت کا مزرعہ کہتے ہیں کہ دنیا جو ہے وہ آخرت کی کھیتی ہے ) ”اور در حقیقت جسے خدا دنیا میں صحت عزت اولاد اور عافیت دیوے اور عمدہ عمدہ اعمال صالح اس کے ہو دیں تو امید ہوتی ہے کہ اس کی آخرت بھی اچھی ہو گی۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 696-695 زیر سورۃ البقرہ آیت (202) ( تب بھی اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رہتا ہے۔اعمال کر کے انسان بے پرواہ نہیں ہو جاتا کہ اب میں نے ایسے اعمال کر لئے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی رضا یقینی ہے اور جنت یقینی ہے۔فرمایا کہ امید ہوتی ہے کہ اس کی آخرت بھی اچھی ہو گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اس دنیا کی جو حسنات ہیں وہ آخرت میں بھی کام آئیں گی۔اور پھر یہ دوسری آیت جو میں نے پڑھی تھی اس میں یہ فرمایا ہے کہ أُولَبِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ (البقرة: 203) کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ایک بڑا اجر ہو گا اس میں سے جو انہوں نے کمایا۔اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔اس میں ایک تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ یہ دعا کریں گے کہ انہیں حسنات ملیں اور پھر اپنے عملوں کو بھی حتی المقدور اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے ، ان حسنات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ان کو ان کے اعمال کے مطابق اللہ تعالیٰ اجر عطا فرمائے گا اور یقیناً وہ دنیا کی حسنات بھی حاصل کرنے والے ہوں گے۔دین کی حسنات بھی حاصل کرنے والے ہوں گے اور آخرت کی حسنات بھی حاصل کرنے والے ہوں گے اور یہ جو فرمایا کہ وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ یہاں اس کا یہ مطلب ہے کہ اصل یہ دعا ہے جو پہلے کی گئی ہے جب تمہارے عمل دعا کے ساتھ مل جائیں گے تو جو نیکیاں کماؤ گے اللہ تعالیٰ پھر اس کی جزا بھی دیتا ہے اور فوری دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کسی نیکی کا ادھار نہیں رکھتا بلکہ فوری بدلہ دیتا ہے۔وہ نیکیاں فوری طور پر انسان کے کھاتے میں لکھی جاتی ہیں اور اپنے وقت پر وہ ظاہر ہو رہی ہوتی ہیں۔دعاؤں کی قبولیت کے نشان جو ہیں ہر احمدی اس کا گواہ ہے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ تجربہ ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہی حسنات کا ایک اظہار ہے۔پھر ایک اور دعا ہے جو عموماً نماز میں تشہد اور درود شریف کے بعد پڑھتے ہیں۔حضرت ابراہیم کی دعا ہے کہ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلوةِ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَاءِ - رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ ( ابراھیم : 41-42) کہ اے میرے ربّ! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری نسلوں کو بھی اے ہمارے رب اور میری دعا قبول کر اور اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے والدین کو بھی اور مومنوں کو بھی جس دن حساب بر پا ہو گا۔پس جب ہر نماز میں حساب کے دینے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تو یہ اس لئے ہے کہ ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ اپنے ہر عمل پر نظر رکھو۔حسنات یو نہی نہیں مل جاتیں۔دنیا کی حسنات کے لئے جو آخرت کی حسنات کا باعث بننے