خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 141
خطبات مسرور جلد ہشتم 141 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مارچ 2010 زندگی ہے اس دنیا کی حسنات کے لئے بھی کوشش کرتے رہو۔اگر اپنے لئے نہیں تو اپنی اولاد کے لئے ، جو بعد میں آنے والوں کے لئے بھی دنیاوی حسنہ بن جائے۔اور بعض دفعہ اولاد کے لئے دنیاوی سامان کرنا بھی دین کے لئے ضروری ہو جاتا ہے تا کہ اولاد در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچ جائے اور کوئی مجبوری، غربت، افلاس انہیں دین سے دور نہ کر دے اور اس طرح وہ اپنی عاقبت بگاڑ لیں۔یعنی حسنہ صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنی نسلوں کے لئے بھی دنیا کی بعض حسنات ہیں جو جاری ہو جاتی ہیں اور ہمیشہ جاری رہتی ہیں بشر طیکہ اولاد کی روحانی تربیت بھی ہو اور اس حسنہ سے بھی وہ فائدہ اٹھا رہے ہوں اور تقویٰ پر چلنے والے ہوں۔اور پھر اپنے والدین کے لئے ایسی اولاد ہی ہے جو دعا بھی کرتی ہے اور یہ دعا پھر ان کی آخرت کی حسنات کا موجب بن جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن شریف میں سکھائی ہے کہ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا (بنی اسرائیل : 25) کہ ان سے رحم کا سلوک فرما، میرے بچپن میں جو رحم فرماتے رہے۔مجھے انہوں نے اس دنیا کی حسنات سے نوازا۔پھر ایک اور اقتباس ہے۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: انسان اپنے نفس کی خوشحالی کے واسطے دو چیزوں کا محتاج ہے۔ایک دنیا کی مختصر زندگی اور اس میں جو کچھ مصائب شدائد اور ابتلاء وغیرہ اسے پیش آتے ہیں ان سے امن میں رہے۔دوسرے فسق و فجور اور روحانی بیماریاں جو اسے خدا سے دور کرتی ہیں ان سے نجات پاوے۔تو دنیا کا حسنہ یہ ہے کہ کیا جسمانی اور کیا روحانی طور پر یہ ہر ایک بلا اور گندی زندگی اور ذلت سے محفوظ رہے۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء: 29) فرمایا کہ دو چیزیں ہیں جن چیزوں کا انسان محتاج ہے۔ایک تو اس دنیا کی زندگی ہے جو مختصر زندگی ہے گو کہ بعض دنیادار اس کو بہت لمبی زندگی سمجھتے ہیں اس میں جتنی مصیبتیں آتی ہیں، مشکلات آتی ہیں تکالیف آتی ہیں ابتلاء آنے ہیں ان سے بچنے کے لئے کوشش کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ بچے۔دوسرے فسق و فجور اور جتنی روحانی بیماریاں ہیں جو اسے خدا سے دُور کر دیں ایک دیندار کے لئے یہ بھی بڑا ضروری ہے کہ وہ ان سے بھی نجات پائے تو یہ دنیا کی حسنات ہیں؟ فرمایا کہ) ایک ناخن ہی میں درد ہو تو زندگی بیزار ہو جاتی ہے۔۔۔اسی طرح جب انسان کی زندگی خراب ہوتی ہے جیسے بازاری عورتوں کا گروہ ہے کہ ان کی زندگی کیسی ظلمت سے بھری ہوئی اور بہائم کی طرح ہے کہ خدا اور آخرت کی کوئی خبر نہیں۔تو دنیا کا حسنہ یہی ہے کہ خداہر ایک پہلو سے خواہ وہ دنیا کا ہو خواہ آخرت کا ہر ایک بلا سے محفوظ رکھے اور فی الآخِرَةِ حَسَنَة میں جو آخرت کا پہلو ہے وہ بھی دنیا کی حسنہ کا ثمرہ ہے۔اگر دنیا کا حسنہ انسان کو مل جاوے تو وہ فال نیک آخرت کے واسطے ہے“۔( اگر اس دنیا میں انسان کو حسنہ دنیا کی حسنات مل جائیں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اوپر ذکر فرمایا۔تو فرمایا کہ وہ آخرت کے لئے نیک فال ہے۔یہ غلط ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کا حسنہ کیا مانگتا ہے آخرت کی بھلائی ہی مانگو۔صحت جسمانی وغیرہ ایسے