خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 140 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 140

خطبات مسرور جلد ہشتم 140 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مارچ 2010 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو اقتباس میں نے لئے ہیں جو اس پر بڑی روشنی ڈالتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں۔کیونکہ اس کا نصب العین دین ہوتا ہے ( یعنی مومن کا) اور دنیا، اس کا مال و جاہ دین کا خادم ہو تا ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو بلکہ حصول دنیا میں اصل غرض دین ہو اور ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیا جاوے کہ وہ دین کی خادم ہو۔جیسے انسان کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے واسطے سفر کے لئے سواری یا اور زادراہ کو ساتھ لیتا ہے تو اس کی اصل غرض منزل مقصود پر پہنچنا ہوتا ہے۔نہ خود سواری اور راستہ کی ضروریات۔اسی طرح پر انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا تعلیم فرمائی ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً (البقرة:202) اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے۔لیکن کس دنیا کو ؟ حَسَنَة الدنیا کو جو آخرت میں حسنات کی موجب ہو جاوے۔اور اس دعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں جاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حسنات الآخرۃ کا خیال رکھنا چاہئے اور ساتھ ہی حَسَنَة الدُّنْيَا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصول دنیا کا ذکر آگیا ہے جو کہ ایک مومن مسلمان کو حصول دنیا کے لئے اختیار کرنی چاہئیں۔دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو نہ وہ طریق کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسانی کا موجب ہو ، نہ ہم جنسوں میں کسی عار اور شرم کا باعث۔ایسی دنیا بیشک حسنة الآخرة کا موجب ہو گی۔پس یاد رکھو کہ جو شخص خدا کے لئے زندگی وقف کر دیتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ وہ بے دست و پا ہو جاتا ہے ؟ نہیں ہر گز نہیں بلکہ دین اور الہی وقف انسان کو ہوشیار اور چابکدست بنادیتا ہے۔سستی اور کسل اس کے پاس نہیں آتا۔حدیث میں عمار بن خزیمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے میرے باپ کو فرمایا کہ تجھے کس چیز نے اپنی زمین میں درخت لگانے سے منع کیا۔تو میرے باپ نے جواب دیا کہ میں بڑھاہوں کل مر جاؤں گا۔پس اس کو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تجھ پر ضرور ہے کہ درخت لگاوے۔(پھر راوی کہتے ہیں) میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ خود میرے باپ کے ساتھ مل کر ہماری زمین میں درخت لگاتے تھے اور ہمارے نبی کریم صلی علیہ ظلم ہمیشہ عجز اور کسل سے پناہ مانگا کرتے تھے۔میں پھر کہتا ہوں کہ ست نہ بنو۔اللہ تعالیٰ حصول دنیا سے منع نہیں فرماتا بلکہ حسنۃ الدنیا کی دعا تعلیم فرماتا ہے۔(الحکم جلد 4 نمبر 29 مورخہ 16 اگست 1900ء صفحه 3-4) ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحه 694695 زیر سورۃ البقرۃ آیت 202) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ حدیث یہاں کوٹ (Quote) کی اس کا مطلب تھا کہ میں تو اب مر رہا ہوں مجھے دنیا کی حسنات سے کیا غرض ہے۔لیکن حضرت عمرؓ نے فرمایا نہیں تمہیں جب تک تمہاری