خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 139
خطبات مسرور جلد ہشتم 139 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مارچ 2010 بچنے کے لئے دعائیں بھی سکھا دی ہیں تاکہ یہ دعائیں کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کے بندوں کو نیک اعمال کرنے کی طرف توجہ بھی پیدا ہوتی رہے اور برائیوں سے بچنے کا احساس بھی رہے۔سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ دو آیات ہیں کہ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ في الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة : 202) اور انہیں میں سے وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے ربّ ہمیں دنیا میں بھی حسنہ عطا کر اور آخرت میں بھی حسنہ عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔پھر فرمایا أُولبِكَ لَهُم نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ (البقرة: 203) یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ایک بڑا اجر ہو گا اس میں سے جو انہوں نے کمایا اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔پس پہلے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مومن کے اعمال اور کوششیں صرف اس دنیا کی حسنہ کے حصول تک ہی محدود نہیں رہتیں۔ایک تو وہ دنیا کی حسنات کی تلاش میں بھی رہتے ہیں۔دوسرے آخرت کی حسنات کی تلاش میں بھی رہتے ہیں۔تیسرے آگ کے عذاب سے بچنے کی بھی دعا کرتے ہیں۔اور آگ کا عذاب صرف آخرت میں آگ کا عذاب نہیں ہے بلکہ ہر ایسی چیز جو کسی بھی انسان کے لئے تکلیف کا باعث بن سکے وہ آگ کا عذاب ہے۔اللہ تعالیٰ اس سے بچائے۔یہ دعا ان کی اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رہتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے حقیقی مومن کی یہ نشانی بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر خیر کے وہ متلاشی ہوتے ہیں۔چاہے وہ دنیا کی خیر ہو یا آخرت کی خیر ہو اور ہر اس عمل سے خدا تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرتے ہیں جو انہیں خدا تعالیٰ سے دور لے جاکر عذاب کا باعث بنائے۔پس یہ بڑی جامع دعا ہے اور ہر طبقہ اور استعداد کے انسان کے لئے اس کی روحانی اور دنیاوی ترقی کے لئے بہت اہم دعا ہے جو ہمیں بہت زیادہ کرنی چاہئے اور ایک حقیقی مومن کو خاص طور پر آنحضرت صلی للی نم نے یہ تلقین فرمائی ہے کہ اپنی دنیا و آخرت کی حسنات کے لئے یہ دعا مانگا کرو۔( صحیح بخاری کتاب الدعوات باب قول النبی صلی اللهم ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ، حدیث نمبر 6389) پس اس دنیا کی حسنات طلب کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو طلب کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک حسنات ہیں۔جس میں پاک رزق بھی شامل ہے اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی شامل ہے۔نیک اعمال بھی شامل ہیں جو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والے ہیں۔احسن رنگ میں خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے عبادات بھی شامل ہیں۔اور پھر ان حسنات کی وسعت اس طرح ہے کہ جو حسنات ایک انسان کے علم میں ہیں یا نہیں وہ بھی ایک مومن خدا تعالیٰ سے مانگتا ہے اور جب یہ حسنات اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل رہی ہوں گی تو دنیا کی ہر قسم کی تکلیفوں اور ایسے اعمال سے جو اسے آگ کے عذاب کا مورد بنا سکتے ہوں اللہ تعالیٰ ایک حقیقی مومن کو بچالیتا ہے اور یہ دنیا کی حسنات ہی آخرت کی حسنات سے نوازے جانے کا باعث بھی بنتی ہیں۔