خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 138

خطبات مسرور جلد ہشتم 138 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مارچ 2010 آسان حساب ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے گا۔تو ایسا گروہ جن کو پیٹھ پیچھے سے کتاب دی جائے گی، اللہ تعالیٰ انہیں یہ کتاب دے کر فرمائے گا کہ یہ کتاب پڑھ اور پھر اپنا محاسبہ کر۔کیونکہ تیر انفس خود ہی حساب کے لئے کافی ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ یشآء وہ جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا تو کسی زبر دستی کی وجہ سے نہیں ہے۔بلکہ ہر انسان کو اس کی کتاب دے کر فرمائے گا کہ اقرأ كتبك (بنی اسرائیل: 15) کہ اپنی کتاب پڑھ۔اور بد اعمال کرنے والوں کے نفس خود یہ گواہی دے رہے ہوں گے کہ ہاں ہمارے عمل ہی ایسے ہیں جو ہمیں سزا کا مستوجب بنا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کسی سے بے انصافی نہیں کرتا۔وہ تو رائی کے دانہ کے برابر بھی عمل کی جزا دیتا ہے۔چھوٹے سے چھوٹے عمل کی بھی جزا دیتا ہے۔ہاں وہ کیونکہ ہر چیز پر قادر ہے اس لئے چاہے تو بخش بھی سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف بار بار یہی فرماتا ہے کہ عالم آخرت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔بلکہ اس کے تمام نظارے اسی دنیاوی زندگی کے اظلال و آثار ہیں۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ہم نے اسی دنیا میں ہر ایک شخص کے اعمال کا اثر اس کی گردن سے باندھ رکھا ہے اور انہی پوشیدہ اثروں کو ہم قیامت کے دن ظاہر کر دیں گے اور ایک کھلے کھلے اعمالنا مے کی شکل پر دکھاویں گے۔اس آیت میں جو طائِر کا لفظ ہے تو واضح ہو کہ طائر اصل میں پرندے کو کہتے ہیں پھر استعارے کے طور پر اس سے مراد عمل بھی لیا گیا ہے۔کیونکہ ہر ایک عمل نیک ہو یا بد ہو وہ وقوع کے بعد پرندے کی طرح پرواز کر جاتا ہے اور مشقت یا لذت اس کی کالعدم ہو جاتی ہے اور دل پر اس کی کثافت یا لطافت باقی رہ جاتی ہے“۔( ہر عمل کو انسان بھول جاتا ہے اور پھر اس کا نیکی یا بدی کا جو اثر ہے وہی دل پر قائم رہتا ہے۔) فرمایا کہ “ یہ قرآنی اصول ہے کہ ہر ایک عمل پوشیدہ طور پر اپنے نقوش جماتا رہتا ہے۔جس طور کا انسان کا فعل ہوتا ہے اسی کے مناسب حال ایک خدا تعالیٰ کا فعل صادر ہوتا ہے اور وہ فعل اس گناہ کو یا اس کی نیکی کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ اس کے نقوش دل پر ، منہ پر، آنکھوں پر ، کانوں پر، ہاتھوں پر، پیروں پر لکھے جاتے ہیں اور یہی پوشیدہ طور پر ایک اعمالنامہ ہے جو دوسری زندگی میں کھلے طور پر ظاہر ہو جائے گا“۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 400-401) اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف بھلائی اور خیر کے کرنے اور برائی اور شر سے بچنے کی طرف تاکید نہیں فرمائی بلکہ اس حقیقت کی وجہ سے کہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے اور کمزوریوں اور گناہوں کی طرف راغب ہو سکتا ہے اور ان عملوں کی وجہ سے سزا کا مستوجب بن سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی وسیع تر رحمت نے بندے پر یہ بھی احسان فرمایا ہے کہ اسے اپنی رضا کے حصول کے لئے دنیا و آخرت کی حسنات کے حاصل کرنے کے لئے دوزخ کے عذاب سے