خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 137

خطبات مسرور جلد ہشتم 137 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 مارچ 2010 صورت میں نکالیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا۔اور اگلی آیت میں ( یہ دو آیتیں ہیں ) فرمایا کہ اپنی کتاب پڑھ اللہ فرمائے گا آج کے دن تیر انفس تیر احساب لینے کے لئے کافی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں پھر انسان کو متنبہ کیا ہے کہ اپنے اعمال پر نظر رکھو۔یہ نہ سمجھو کہ ایک عمل نیک یابد جو تم نے بھی کیا ہے وہ بھولی بسری چیز بن گئی ہے۔ایک تو جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چاہے چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ تعالیٰ اس کا محاسبہ کرے گا جو بھی تمہارے دل میں ہے۔یہاں مزید کھولا کہ چھپانے کا کیا سوال ہے تمہارا ہر عمل تمہاری گردن کے ساتھ لٹکا دیا گیا ہے۔ایک ڈائری ہے جو روز کی بن رہی ہے جس میں نیکیاں بھی لکھی جار ہی ہیں اور بدیاں بھی لکھی جارہی ہیں اور قیامت کے دن یہ کتاب کھل کر سامنے آجائے گی۔بعض دفعہ کیا بلکہ اکثر اوقات انسان اپنی برائیوں کو یاد نہیں رکھتا یا ان کو اتنی اہمیت ہی نہیں دیتا کہ وہ یاد رہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جو لکھی جارہی ہے، جو تمہاری گردن میں لٹکائی گئی ہے اس میں ہر واقعہ مع تاریخ اور وقت کے لکھا جارہا ہے۔ہر عمل جو تم کرتے ہو اس پر لکھا جارہا ہے اور یہ تمہارے اعمالنامے کا ایک دائمی حصہ بن چکا ہے۔اس سے چھٹکارا نہیں پایا جاسکتا۔پس انسان کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی لکھا ہو ا سامنے ہو گا۔اس لئے بجائے اس کے کہ انسان مرنے کے بعد اعمالنامے کو پڑھے اور پھر اگر بُرے اعمال ہیں تو خفت اٹھانی پڑے یا اللہ تعالی کی سزا کا مستوجب بنے۔انسان کو اس زندگی میں اپنا روز محاسبہ کرنا چاہئے اور یہ جو روزانہ کا محاسبہ ہے وہ جہاں انسان کو معاشرہ کی نظروں سے بچاتا ہے وہاں خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بھی بناتا ہے۔بہت سارے کام انسان معاشرے میں کرتا ہے اور پھر لوگ اس پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔لیکن اگر انسان خود اپنا محاسبہ کر رہا ہو تو جہاں یہ محاسبہ ہر وقت انسان کو محتاط کرے گا وہاں لوگوں کی نظروں سے بھی انسان بچے گا۔پس کوشش یہ ہونی چاہئے کہ جب کتاب ملے تو نیک اعمال لئے ہوئے ہو گو کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہو تا ہے۔لیکن اس کے فضل کے حصول کے لئے بھی اسی کی طرف جھکنے کی ضرورت ہے۔ایک جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتبهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يسيرا (الانشقاق : 9-8) تو اس سے جلد ہی آسان حساب لیا جائے گا۔داہنے ہاتھ سے مراد نیکیاں ہیں۔ایسے لوگوں کی برائیوں پر نیکیاں غالب ہوں گی اور حساب آسان ہو گا۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے یہ حساب آسان کر دے گا۔اور دوسرا اگر وہ وہ ہے جس کا حساب مشکل ہو گا۔ان کو پیٹھ پیچھے سے کتاب دی جائے گی۔میں نے گزشتہ خطبہ میں ایک حدیث بھی سنائی تھی کہ مومنوں کا جو حساب ہے وہ حساب نہیں ہے۔(مسلم) كتاب الجنة وصفة نعيمها و اهلها - باب : اثبات الحساب - حدیث نمبر (7119)