خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 123 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 123

خطبات مسرور جلد ہشتم 123 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مارچ 2010 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مارچ 2010ء بمطابق 12 امان 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ حسیب کے حوالے سے ایک تو مومنوں کی حالت کا ذکر ہوا تھا کہ وہ ایمان کی مضبوطی کی وجہ سے ہر ابتلا میں ، ہر تکلیف میں جو انہیں مخالفین کی طرف سے پہنچائی جاتی ہے، حَسْبُنَا اللهُ کا اعلان کرتے ہیں اور دنیاداروں کی طرف سے پہنچنے والی کوئی تکلیف، کوئی دباؤ یا کسی بھی قسم کے ظلم کا طریق ان کے ایمان کو کمزور نہیں کرتا۔اور دوسری بات یہ ہوئی تھی کہ انبیاء اور مومنین کے مخالفین، ان کے دشمنوں اور انہیں تکلیف پہنچانے والوں سے اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔سَرِيعُ الْحِسَابِ۔جس کا مطلب ہے کہ وہ فیصلہ کرلے کہ مخالفین اور زیادتیوں میں حد سے بڑھنے والوں سے کیا سلوک کرنا ہے ؟ تو پھر وہ ہر مغرور اور متکبر کو اس دنیا میں یا آخرت میں پکڑتا ہے۔اور اس کے ظلموں کا حساب لیتا ہے۔عموماً ظالم انسان اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی کسی گرفت سے بچتا ہے۔تو سمجھتا ہے کہ میں جو کر رہا ہوں ٹھیک کر رہا ہوں۔اور یہ بات اسے ظلم و تعدی میں بڑھا دیتی ہے۔وہ بظاہر منہ سے خدا کا نام لے رہا ہوتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کے علم میں ہر چیز ہے۔اسے پتہ ہے کہ اس کے دل میں کیا ہے ؟ پس ایسے لوگوں کے بارے میں جب اللہ تعالیٰ حساب کا حکم جاری فرماتا ہے۔تو بڑا خوفناک انجام ہوتا ہے۔اس کی وضاحت ایک حدیث سے یوں ہوتی ہے جس میں بڑا سخت انذار فرمایا گیا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا کہ قیامت کے روز جس کا حساب لیا گیا۔اسے عذاب دیا جائے گا۔اس پر حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ؟ کہ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يسيرا ( صحیح مسلم کتاب الجنة وصفۃ نعیمہ واھلہا باب اثبات الحساب۔حدیث نمبر 7119 دار الفکر بیروت۔لبنان 2004ء) یعنی پھر اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمایا کہ یہ وہ حساب نہیں ہے جس حساب کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔یہ تو صرف پیش ہونا ہے۔جس سے قیامت کے روز کرید کرید کر حساب لیا گیا اسے عذاب دیا جائے گا۔