خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 122

خطبات مسرور جلد ہشتم 122 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 تاخیر ہو جاتی۔پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے ظاہر ہو گئے۔جیسا کہ خدا نے فرمایا ہے۔وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (بنی اسرائیل: 16) ( یعنی ہم کسی قوم کو عذاب نہیں دیتے جب تک ہم وہاں کوئی نبی مبعوث نہ کر لیں۔اور مسیح محمدی تو ساری دنیا کے لئے آئے ہیں)۔فرمایا: اور توبہ کرنے والے امان پائیں گے۔اور وہ جو بلا سے پہلے ڈرتے ہیں ان پر رحم کیا جائے گا۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم ان زلزلوں سے امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہو ؟ ہر گز نہیں۔انسانی کاموں کا اس دن خاتمہ ہو گا۔یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک ان سے محفوظ ہے۔میں تو دیکھتا ہوں کہ شاید ان سے زیادہ مصیبت کا منہ دیکھو گے“۔اور اس کے آگے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ اقتباس بھی ہے جو اکثر پڑھا جاتا ہے۔جس میں آپ نے فرمایا کہ : ”اے یورپ تو بھی امن میں نہیں۔اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں۔اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا۔مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے۔مگر خد اغضب میں دھیما ہے تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی۔اور جو اس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ۔“ 66 (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ نمبر 267 تا 269) اور یہ وار ننگ خاص طور پر ہندوستان پاکستان کے علاقے کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا کو بھی عقل دے اور سمجھ دے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرستادے کو پہچاننے والے ہوں۔اور اللہ تعالیٰ کی سزا سے بچیں۔ہمیں بھی اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے اور اس راستے میں ہر مشکل اور تکلیف ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرنے والی ہو نہ کہ خوفزدہ ہو کر ہم اپنے کاموں سے رک جائیں۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شمارہ 13 مورخہ 26 مارچ تائیم اپریل 2010 صفحہ 5 تا 8 )