خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 124

اور خطبات مسرور جلد ہشتم 124 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مارچ 2010 پس یہ بڑا خوفناک انذار ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک پر رحم فرمائے۔ایک مومن کا امتیاز تو تقویٰ پر چلنا ہے۔ر تقویٰ پر چلنے والا اللہ تعالیٰ کے انعامات سے حصہ پانے والا ہوتا ہے۔تقویٰ پر چلنے والے وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔اپنے اعمال پر نظر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی کوشش کرتے ہیں۔اور جب یہ کوشش ہو رہی ہو تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی صفت حسیب کس طرح ظاہر ہوتی ہے۔اس بارہ میں اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ایک جگہ اپنے حسیب ہونے کا یوں ذکر فرماتا ہے۔فرمایا کہ وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قدرا ( الطلاق: 4) یعنی وہ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔اور جو اللہ پر تو کل کرے تو وہ اس کے لئے کافی ہے۔یقیناً اللہ اپنے فیصلہ کو مکمل کر کے رہتا ہے۔اللہ نے ہر چیز کا ایک منصوبہ بنا رکھا ہے۔“ اس آیت سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق: 3) یعنی جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اس کے لئے اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی رستہ نکال دے گا۔رزق کا وسیع تر مفہوم پس متقی کو اللہ تعالیٰ رزق عطا فرماتا ہے اور ایسے راستے کھولتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ایک متقی رزق کے لئے صرف اور صرف خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے۔اور جب تو کل حقیقی ہو تو پھر خدا تعالیٰ اپنے حسیب ہونے کا اور اپنے کافی ہونے کا نظارہ دکھاتا ہے۔یہاں یہ بات یادر کھنی چاہیئے کہ رزق محمد ود لفظ نہیں جو اس مادی رزق تک ہی محدود ہو بلکہ اس کے بڑے وسیع معنی ہیں۔چنانچہ اس کے معنی لغات میں ہر قسم کے رزق کے بھی کئے گئے ہیں۔مادی رزق کے بھی جو زندگی کی بقاء کے لئے ضروری ہے خوراک ہے اور دوسری چیزیں روپیہ پیسہ ہے۔اس کے معنی روحانی رزق کے بھی ہیں۔روحانیت کے ملنے کے بھی ہیں۔اور اس کے معنی علم کی دولت کے بھی ہیں بلکہ تمام انسانی قوی بھی اس میں شامل ہیں۔ایک منتقی انسان کو اور خدا تعالیٰ پر توکل کرنے والے کو صرف دنیاوی مادی رزق کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ ہر قسم کے رزق کی اللہ تعالیٰ سے خواہش رکھتا ہے۔رزق کے وسیع تر معنوں کے لحاظ سے یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم پر بہت اعلیٰ رنگ میں کھولا ہے اور جب آپ یہ مضمون بیان فرماتے ہیں جب اس کی مثالیں بیان فرماتے ہیں تو پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ آنحضرت علی علیم کے اس غلام صادق کی کوئی بات جس کو کسی اعلیٰ ترین مثال سے بیان کرنا مقصود ہو بغیر آقا کے ذکر کے ہو۔پس جب آپ روحانی رزق کا بھی ذکر کرتے ہیں تو مثال آنحضرت صلی الی یوم کی ہی بیان فرماتے ہیں۔فرمایا کہ برکات تقویٰ میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو ان مصائب سے مخلصی بخشتا ہے جو دینی امور کے