خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 120 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 120

خطبات مسرور جلد ہشتم 120 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 بڑے مخالف ابھی تک بچے ہوئے ہیں“۔فرمایا: ”لیکن سنت اللہ یہی ہے کہ ائمۃ الکفر اخیر میں پکڑے جایا کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت موسیٰ کے وقت جس قدر عذاب پہلے نازل ہوئے اُن سب میں فرعون بچا رہا۔چنانچہ قرآنِ شریف میں بھی آیا کہ اَنَّا نَاتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد (42) - یعنی ابتدا عوام سے ہوتا ہے اور پھر خواص پکڑے جاتے ہیں۔اور بعض کے بچانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے آخر میں تو بہ کرنی ہوتی ہے یا ان کی اولاد میں سے کسی نے اسلام قبول کرنا ہوتا ہے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 200-201 مطبوعہ ربوہ) گذشتہ دنوں چلی میں بھی ایک زلزلہ آیا ہے۔اور اس سے دو مہینہ پہلے ہیٹی میں بھی زلزلہ آیا تھا۔تو چلی میں جو زلزلہ آیا وہ بیٹی کے زلزلے سے 64 گنازیادہ طاقتور تھا۔اور پندرہ لاکھ گھروں کو مجموعی طور پر نقصان پہنچا جن میں سے پانچ لاکھ تو بہت زیادہ تباہ ہوئے ہیں۔اس زلزلے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زلزلے کی جو ریکارڈڈ ہسٹری ہے اس میں یہ ساتواں خوفناک ترین زلزلہ ہے۔اس کے بارے میں اور بھی معلومات سائنسدانوں نے دی ہیں۔مثلاً یہ کہ زلزلے کے اس جھٹکے سے زمینی دن میں 1۔26 سیکنڈ فرق پڑا ہے اور اکثر زلزلوں سے اس طرح فرق پڑتے ہیں۔پھر سائنسدان کہتے ہیں کہ زمین اپنے figure axis جو اس کا مرکز ہے، اس سے تین انچ ہٹ گئی ہے۔اور یہ figure axis نارتھ ساؤتھ کاaxis نہیں ہے جس کے گرد زمین گھوم رہی ہے۔بلکہ سائنسدان کہتے ہیں کہ figure axis وہ ہے جس پر زمین اپنا توازن قائم کرتی ہے۔اور ہر زلزلے میں اس میں فرق پڑتا جاتا ہے۔گویا یہ بھی زمین کو ہٹاتے چلے جانے کی ایک صورت بن رہی ہے۔پھر برف پگھلنے سے زمین کے ڈوبنے کی جو سائنسدان پیشگوئی کر رہے ہیں وہ ایک علیحدہ آفت ہے، جس نے دنیا کو پریشان کیا ہوا ہے۔یہ سب مسیح موعود کی تائید میں ہی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے زلزلوں کو اپنے نشانوں میں سے ایک نشان قرار دیا ہے۔کچھ آپ کی زندگی میں آئے۔اور چلی میں بھی ایک زلزلہ 1906ء میں آیا تھا جو آپ کی زندگی میں آیا تھا۔اور چلی کے اس زلزلے کی خبر جب آپ تک پہنچی تھی تو اس کو بھی آپ نے اپنا ایک نشان قرار دیا تھا۔یہ سب چیزیں جو ہیں، یہ حضرت مسیح موعود کی تائید میں ہی ہیں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ معلوم تاریخ کے مطابق 1570ء سے جو ریکارڈ نظر آیا ہے اس کے مطابق 1835ء تک پانچ زلزلے آئے تھے۔1835ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کا سال تھا۔اور پھر 1835ء کے بعد 1868ء میں ایک زلزلہ آیا۔پھر آپ کے دعویٰ کے بعد 1906ء کا یہ زلزلہ آیا جس کو آپ نے اپنا نشان فرمایا ہے اور اس کے بعد آج تک پہلے تین سو سال میں تو صرف پانچ ریکارڈ ہوئے تھے۔اس کے بعد اس سوسال میں آج تک چلی میں ہی 18 بڑے زلزلے آچکے ہیں۔چھوٹے تو وہاں آتے ہی رہتے ہیں۔