خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 121

خطبات مسرور جلد ہشتم 121 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 بڑے ہی خوفناک زلزلے آچکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام چلی کے زلزلے کے حوالے سے ہی فرماتے ہیں۔میں اقتباس پڑھتا ہوں۔فرمایا: کہ کئی مرتبہ زلزلوں سے پہلے اخباروں میں میری طرف سے شائع ہو چکا ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے زلزلے آئیں گے۔یہاں تک کہ زمین زیر وزبر ہو جائے گی۔پس وہ زلزلے جو سان فرانسسکو اور فارموساد غیرہ میں میری پیشگوئی کے مطابق آئے وہ تو سب کو معلوم ہیں۔لیکن حال میں 16 / اگست 1906ء کو جو جنوبی حصہ امریکہ یعنی چلی کے صوبے میں ایک سخت زلزلہ آیا وہ پہلے زلزلوں سے کم نہ تھا“۔(اس زلزلے کے بارہ میں بھی پتا لگتا ہے کہ تین دن تک تو ساتھ کے شہروں کو پتا ہی نہیں لگا کہ وہاں اتنی زیادہ تباہی ہوئی ہے)۔فرماتے ہیں کہ : " جس سے پندرہ چھوٹے بڑے شہر اور قصبے برباد ہو گئے اور ہزارہا جانیں تلف ہوئیں۔اور دس لاکھ آدمی اب تک بے خانمان ہیں۔شاید نادان لوگ کہیں گے کہ یہ کیونکر نشان ہو سکتا ہے۔یہ زلزلے تو پنجاب میں نہیں آئے۔مگر وہ نہیں جانتے کہ خدا تمام دنیا کا خدا ہے۔نہ صرف پنجاب کا۔اور اس نے تمام دنیا کے لئے یہ خبریں دی ہیں نہ صرف پنجاب کے لئے۔یہ بد قسمتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کو ناحق ٹال دینا اور خدا کے کلام کو غور سے نہ پڑھنا اور کوشش کرتے رہنا کہ کسی طرح حق چھپ جائے۔مگر ایسی تکذیب سے سچائی چھپ نہیں سکتی“۔دنیا ایک قیامت کا نظارہ دیکھے گی پھر فرمایا کہ: یاد رہے کہ خدا نے مجھے عام طور پر زلزلوں کی خبر دی ہے۔پس یقیناً سمجھو کہ جیسا کہ پیشگوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آئے۔ایسا ہی یورپ میں بھی آئے۔اور نیز ایشیا کے مختلف مقامات میں آئیں گے۔اور بعض ان میں قیامت کا نمونہ ہوں گے۔اور اس قدر سخت موت ہو گی کہ خون کی نہریں چلیں گی۔اس موت سے پرند چرند بھی باہر نہیں ہوں گے۔اور زمین پر اس قدر تباہی آئے گی کہ اُس روز سے کہ انسان پیدا ہوا ایسی تباہی کبھی نہیں آئی ہو گی۔اور اکثر مقامات زیر وزبر ہو جائیں گے کہ گویا ان میں کبھی آبادی نہ تھی۔اور اس کے ساتھ اور بھی آفات زمین اور آسمان میں ہولناک صورت میں پیدا ہوں گی۔یہاں تک کہ ہر ایک عقل مند کی نظر میں وہ باتیں غیر معمولی ہو جائیں گی۔اور ہیئت اور فلسفہ کی کتابوں کے کسی صفحہ میں ان کا پتا نہیں ملے گا۔تب انسانوں میں اضطراب پیدا ہو گا کہ یہ کیا ہونے والا ہے ؟ اور بہتیرے نجات پائیں گے اور بہتیرے ہلاک ہو جائیں گے۔وہ دن نزدیک ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ دروازے پر ہیں کہ دنیا ایک قیامت کا نظارہ دیکھے گی۔اور نہ صرف زلزلے بلکہ اور بھی ڈرانے والی آفتیں ظاہر ہوں گی۔کچھ آسمان سے اور کچھ زمین سے۔یہ اس لئے کہ نوع انسان نے اپنے خدا کی پرستش چھوڑ دی ہے۔اور تمام دل اور تمام ہمت اور تمام خیالات سے دنیا پر ہی گر گئے ہیں۔اگر میں نہ آیا ہو تا تو ان بلاؤں میں کچھ