خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 119

خطبات مسرور جلد ہشتم 119 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 جوئیں برسیں، مینڈ کیں برسیں، خون برسا اور عام قحط پڑا۔حالانکہ ملک مصر کے دور دور کے باشندوں کو حضرت موسیٰ کی خبر بھی نہ تھی، اور نہ ان کا اس میں کچھ گناہ تھا اور نہ صرف یہ بلکہ تمام مصریوں کے پلوٹھے بچے مارے گئے۔اور فرعون ایک مدت تک ان آفات سے محفوظ تھا اور جو محض بے خبر تھے وہ پہلے مارے گئے۔اور حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں جن لوگوں نے حضرت عیسی کو صلیب سے قتل کرنا چاہا تھا ان کا تو بال بھی بیکا نہ ہوا اور وہ آرام سے زندگی بسر کرتے رہے۔لیکن چالیس برس بعد جب وہ صدی گزرنے پر تھی تو طیطوس رومی کے ہاتھ سے ہزاروں یہودی قتل کئے گئے اور طاعون بھی پڑی۔اور قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ عذاب محض حضرت عیسی (علیہ السلام) کی وجہ سے تھا۔ایسا ہی آنحضرت صلی نیلم کے وقت میں سات برس کا قحط پڑا اور اکثر اس قحط میں غریب ہی مارے گئے۔اور بڑے بڑے سردار، فتنہ انگیز جو دکھ دینے والے تھے، مدت تک عذاب سے بچے رہے۔خلاصہ کلام یہ کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے آتا ہے اور اس کی تکذیب کی جاتی ہے تو طرح طرح کی آفتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں۔جن میں اکثر ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں جن کا اس تکذیب سے کچھ تعلق نہیں۔پھر رفتہ رفتہ ائمۃ الکفر پکڑے جاتے ہیں۔اور سب سے آخر بڑے شریروں کا وقت آتا ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے آنا نأتي الأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد (42)۔یعنی ہم آہستہ آہستہ زمین کی طرف آتے جاتے ہیں۔اس میرے بیان میں ان بعض نادانوں کے اعتراضات کا جواب آگیا ہے جو کہتے ہیں کہ تکفیر تو مولویوں نے کی تھی اور غریب آدمی طاعون سے مارے گئے۔اور کانگڑہ اور بھا گسو کے پہاڑ کے صدہا آدمی زلزلہ سے ہلاک ہو گئے۔ان کا کیا قصور تھا؟ انہوں نے کون سی تکذیب کی تھی؟ سویا د رہے کہ جب خدا کے کسی مرسل کی تکذیب کی جاتی ہے۔خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین میں ہو۔مگر خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے اور آسمان سے عام طور پر بلائیں نازل ہوتی ہیں۔اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اصل شریر پیچھے سے پکڑے جاتے ہیں جو اصل مبدء فساد ہوتے ہیں۔جیسا کہ اُن قہری نشانوں سے جو حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے دکھلائے فرعون کا کچھ نقصان نہ ہوا، صرف غریب مارے گئے۔لیکن آخر کار خدا نے فرعون کو مع اس کے لشکر کے غرق کیا۔یہ سنت اللہ ہے جس سے کوئی واقف کار انکار نہیں کر سکتا“۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 165 تا 167) ایک اور اقتباس کہ آفتیں کیوں آتی ہیں ؟ وہ بھی پڑھ دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک اور جگہ فرماتے ہیں۔” طاعون کے متعلق بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اکثر غریب مرتے ہیں اور امراء اور ہمارے بڑے