خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 111

خطبات مسرور جلد ہشتم 111 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 پھر فرماتا ہے الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا ۚ وَ قَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (آل عمران : 174) یعنی وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں۔پس ان سے ڈرو تو اس بات نے ان کو ایمان میں بڑھا دیا۔اور انہوں نے کہا ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ایمان کی اس مضبوطی اور خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کا نظارہ ہمیں جنگ اُحد میں اس طرح نظر آتا ہے کہ جب مسلمانوں کے ایک دستے کی غلطی کی وجہ سے واضح طور پر جو جیتی ہوئی جنگ تھی اس کا پانسا پلٹا اور کفار نے دوبارہ مڑ کر حملہ کیا تو مسلمانوں کا بہت جانی نقصان ہوا یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علم کو بھی زخم آئے۔آپ کا دانت بھی شہید ہوا۔لیکن اس وقت آپ کے صحابہ اس طرح مضبوط دیوار بن کر کھڑے ہو گئے تھے کہ کوئی طاقت ان کو وہاں سے ہلا نہیں سکتی تھی۔اور اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر آنحضرت صلی علیم پر دشمن کے ہر وار اور حملے کو ناکام و نامراد کر رہے تھے۔جس کا ایک عجیب نظارہ مذاہب کی تاریخ میں نظر آتا ہے۔بہر حال کفارِ مکہ گو دوسری دفعہ کے حملے میں بظاہر برتری حاصل کئے ہوئے لگتے تھے لیکن جنگی نقطۂ نظر سے یہ کوئی برتری نہیں تھی۔جب کفار کا یہ لشکر جنگ سے واپس لوٹ رہا تھا تو بعض عرب قبائل نے ان پر طنز کیا کہ تم بڑے نعرے لگاتے ہو اور اپنے زعم میں بدر کا بدلہ لے کر جارہے ہو کہ جنگ جیت لی ہے۔یہ کون سی جیت ہے ؟ جس میں نہ کوئی مالِ غنیمت ہے اور نہ کوئی جنگی قیدی ہے اور دعویٰ کر رہے ہو کہ ہم نے مسلمانوں سے بدلہ لے لیا ہے۔اس پر راستے میں ہی کفارِ مکہ نے سوچنا شروع کر دیا کہ یہیں راستے سے ہی واپس لوٹا جائے۔اور مسلمان جو اس وقت زخموں سے مچور ہیں اور تھکے ہوئے ہوں گے ، ان پر حملہ کر کے فتح کو مکمل کیا جائے۔لیکن اس سوچ میں بھی دو گروہ بن گئے۔ایک کا خیال تھا کہ جتنی فتح ہو گئی وہ ٹھیک ہے کیونکہ اب مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں وہ مسلمان بھی شریک ہو جائیں گے جو اُحد میں شریک نہیں ہوئے تھے۔اور پھر مدینہ پر حملے کی وجہ سے اب تمام ہی جان توڑ کر لڑیں گے۔ادھر آنحضرت کو بھی کسی طرح کفار کے اس ارادے کا پتا چل گیا۔تو آپ نے اگلے دن ہی صحابہ کو جمع کیا اور کفار کا پیچھا کرنے کے لئے لشکر کی تیاری کے لئے کہا۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی شرط لگادی کہ اس لشکر میں صرف وہی صحابہ شرکت کریں گے جو اُحد کی جنگ میں گئے تھے۔اب ان کی حالت کا اندازہ لگائیں جو جنگ کی وجہ سے تھکے بھی ہوئے تھے اور اکثر ان میں سے زخمی حالت میں بھی تھے۔چنانچہ 250 مسلمانوں کا یہ لشکر تشکیل دیا گیا جو مدینہ سے روانہ ہوا۔یہ سب کے سب اس خوشی اور جوش سے نکلے تھے جیسے کوئی فاتح لشکر ہے جو دشمن کے تعاقب کے لئے نکلتا ہے۔مدینہ سے 8 میل کے فاصلے پر آپ نے حمراء الاسد کے میدان میں ڈیرہ ڈالا۔اور آپ نے صحابہ کو حکم فرمایا کہ 500 مختلف جگہ پر آگئیں روشن کر دو۔اور جب یہ روشن کی گئیں تو دور سے ہی دیکھنے والوں کو مرعوب کرتی تھیں۔