خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 110
خطبات مسرور جلد ہشتم 110 10 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010ء بمطابق 5 امان 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ الہی جماعتوں کے افراد کی بھی وہی ذمہ داری ہوتی ہے جو ان کے قائم کرنے والے انبیاء کی۔یعنی خدا تعالیٰ کی طرف بلانا اور لوگوں کے گمراہ کن خیالات اور تعلیمات، جو زمانے کے گزرنے کے ساتھ مزید بگڑتے چلے جاتے ہیں، کی نشاندہی کر کے انہیں سچائی کا راستہ دکھانا۔اور مذاہب کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی انبیاء اور ان کے ماننے والوں نے، جو عموماً شروع میں بہت قلیل تعداد میں ہوتے ہیں، یہ کام کیا تو ان کی بھر پور مخالفت ہوئی۔اور زمانے کے فرعون اور ہامان اور ان کے ٹولے اپنا پورا زور لگاتے ہیں کہ کس طرح انبیاء اور ان کی جماعت کو نیست و نابود کر دیا جائے۔اور یہ سلوک مذاہب کے ساتھ ہو تا رہا ہے جب تک وہ اپنے حقیقی دین پر قائم رہے۔پس جب کہ سنت اللہ یہی ہے تو ظاہر ہے کہ آنحضرت علی ایم کے ساتھ بھی یہی سلوک دشمنانِ اسلام نے کرنا تھا۔باوجود اس کے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ پیارے اور برگزیدہ تھے ، آپ سے کوئی احسان نہیں ہوا۔بلکہ ابتلاؤں، آزمائشوں ، تکلیفوں اور جنگوں وغیرہ سے جس طرح آپ کو گزرنا پڑا اس کی مثال گزشتہ انبیاء میں نہیں ملتی۔سب سے بڑھ کر ہے۔لیکن آپ جو استقلال اور عظمت کے انتہائی مقام پر فائز تھے ان سب سے کامیاب گزرتے چلے گئے۔اور یہی ایمان کی پختگی اور چٹانوں کی طرح مضبوط عزم اور ایمان اور ایقان میں ترقی آپ نے اپنے جانثار صحابہ میں پیدا فرما دی۔اور کوئی تکلیف، کوئی زخم ، تعداد میں کمی، ہتھیاروں کی کمی ان صحابہ کے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکی۔چنانچہ قرآن کریم میں ان ایمان والوں کا اللہ تعالیٰ نے اس طرح ذکر فرمایا ہے۔سورۃ آلِ عمران میں۔دو آیتیں ہیں 173,174 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظیم (آل عمران: 173 ) کہ وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور رسول کو لبیک کہا بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکے تھے ، ان میں سے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے احسان کیا اور تقویٰ اختیار کیا بہت بڑا اجر ہے۔