خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 112

خطبات مسرور جلد ہشتم 112 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 مسلمانوں کے اس لشکر کی کفار کو بھی کسی طرح اطلاع مل گئی اور ابو سفیان اور دوسرے سرداروں نے اسی میں بہتری سمجھی کہ واپس مکہ لوٹ جائیں۔کفار کے واپس چلے جانے کی اطلاع جب آنحضرت صلی للی کم کو ملی تو آپ بھی ایک دو دن ٹھہر کر مدینہ واپس لوٹ آئے اور فرمایا کہ کفار پر یہ رعب اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ ان زخمیوں کی تعریف فرما کر جو قربانیوں کی اعلیٰ ترین مثال قائم کئے ہوئے ہیں، ان تقومی شعاروں کو اجر عظیم کی خوشخبری دیتا ہے۔( الطبقات الكبرى لابن سعد الجزاء الثانی صفحہ 274 باب غزوہ رسول اللہ صلی ای کم حمراء الاسد مطبوعہ بیروت 1996)(السيرة النبوية لابن ھشام باب غزوہ حمراء الاسد صفحہ 546,547 مطبوعہ بیروت 2001) الس دوسری اہم بات یہ ہے کہ اُحد سے لوٹتے وقت ابو سفیان نے یہ اعلان کیا تھا اور چیلنج دیا تھا کہ آئندہ سال بدر کے مقام پر دوبارہ ہماری پوری جنگ ہو گی۔آنحضرت صلی ا ہم نے بھی اس چیلنج کو قبول کیا اور اعلان فرمایا کہ ٹھیک ہے، آجانا۔بہر حال 4 ہجری میں آنحضرت صلی للی نیلم نے ڈیڑھ ہزار صحابہ کا لشکر تیار کیا اور لشکر لے کر اس میدان کی طرف نکلے۔ادھر ابو سفیان نے بھی مکہ میں دو ہزار کا لشکر تیار کیا لیکن دل میں ڈرتا بھی تھا کہ یہ لشکر مسلمانوں کے مقابلے کے لئے تھوڑا ہے۔جاسوسی کا انتظام تو وہاں تھا۔پتا لگ گیا تھا کہ کتنے مسلمان تیار ہو رہے ہیں۔تو اس نے یہ چال چلی کہ ایک شخص کو مدینہ روانہ کیا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ کرو کہ کفار مکہ کا تو بہت بڑا لشکر تیار ہو کر آ رہا ہے اور تم لوگ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دشمنوں کے یہ پروپیگنڈے مسلمانوں کو ایمان میں بڑھاتے ہیں۔اور ان کا جواب یہ تھا اور ہوتا ہے۔کہ حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔بہر حال آنحضرت صلی الی یوم کے ساتھ مسلمانوں کا یہ لشکر جو ڈیڑھ ہزار کی تعداد میں تھا بدر کے میدان میں پہنچا۔لیکن کفار کا لشکر مکہ سے کچھ دور باہر آکر پھر واپس مڑ گیا۔اور یہ بہانہ کر دیا کہ یہ قحط کا سال تھا اور ہماری تیاری نہیں ہوئی، اور اگلے سال اچھی طرح تیاری کر کے ہم پھر نکلیں گے۔پس کفار جو یہ چال چلنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو ڈرا کر اور بڑے لشکر کی خبر دے کر خوفزدہ کر کے جنگ کے لئے نکلنے سے روک دیں، ان کی یہ تدبیر بھی کامیاب نہیں ہوئی۔اور اللہ تعالیٰ نے بھی مومنین کی حالت کی گواہی قرآنِ کریم میں فرمائی کہ موت سے ڈرنے کی باتیں کفار کے لئے تو اہم ہو سکتی ہیں لیکن مسلمانوں کو تو یہ ایمان میں بڑھاتی ہیں۔بہر حال مسلمان بدر کے میدان میں جا کر کچھ دن رُکے۔الطبقات الكبرى لابن سعد الجزاء الثانی صفحہ 280, 279 باب غزوہ رسول اللہ صلی العالم بدر الموعد مطبوعہ بیروت 1996) السيرة الحلبية از علامہ ابو الفرج نورالدین حلبی جلد 2 صفحہ 373,375 باب ذکر مغازیۃ غزوہ بدر الآخر مطبوعہ بیروت 2002) اور جیسا کہ میں نے کہا کہ مسلمانوں نے کفار سے تو کیا خوفزدہ ہونا تھا، اُلٹا کفار کا لشکر خوفزدہ ہو کر سامنے آنے کی جرات نہ کر سکا۔پس یہ خدائی رُعب تھا جو کفار پر پڑا۔اور یہ حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (آل عمران : 174) کا دل سے نکلا ہو ا نعرہ ہے جو مسلمانوں کو ہمیشہ قوی تر کرتا چلا جاتا ہے۔یہ کوئی ایک دو واقعات نہیں ہیں بلکہ صحابہ کی