خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 108
خطبات مسرور جلد ہشتم 108 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 ایک روایت حضرت عبد اللہ بن عباس سے ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی الم نے فرمایا جس شخص نے تین یتیموں کی کفالت کی وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو قائم باللیل اور صائم النھار ہو اور اس نے صبح شام اللہ تعالیٰ کی راہ میں تلوار سونتے ہوئے گزاری ہو۔میں اور وہ دونوں جنت میں دو بھائیوں کی طرح ہوں گے۔جیسے یہ دو انگلیاں ہیں۔اور آپ نے اپنی شہادت والی انگلی اور در میانی انگلی کو باہم ملایا۔(سنن ابن ماجہ۔کتاب الآدب۔باب حق الیتیم حدیث : 3680) پس جو یتیم کی کفالت کرنے والے ہیں ان کا مقام ایسا ہی ہے جیسے وہ راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھنے والے ہیں اور روزے رکھنے والے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔پھر مالک بن حارث اپنے خاندان کے ایک شخص کی روایت بیان کرتے ہیں کہ اس نے نبی اکرم صلی للہ ہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص مسلمان والدین کے یتیم بچے کو اپنے کھانے پینے میں باقاعدہ طور پر شامل کر لیتا ہے یہاں تک کہ وہ امداد کا محتاج نہ رہے تو اس کے لئے جنت یقینی ہے۔(مسند احمد بن حنبل مسند مالک بن الحارث جلد 6 صفحہ 463 حدیث : 19234) یہ حقیقی پرورش ہے کہ اپنے جیسا کھانا پلانا، ضرورت کا خیال رکھنا اور اسے اس مقام تک پہنچانا جہاں سے وہ خود اپنی ترقی کے راستے تلاش کرتا چلا جائے۔یعنی معاشرے کا بہترین حصہ بن جائے۔تو پھر اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف سے یہ خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ایک دوسری روایت میں آتا ہے سوائے کسی ایسے گناہ کے جو بخشا نہ جائے۔(مجمع الزوائد ھیثمی جلد 8 صفحہ 209 کتاب البر والصلۃ باب ما جاء فی الايتام والارامل حدیث : 13524 ) اور سب سے بڑا گناہ تو شرک ہے۔اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ یتیموں کی پرورش کرنے والے کو بہت جزا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں بھی یقیموں کی پرورش کا خیال رکھا جاتا ہے۔افریقہ اور بعض اور ممالک میں جماعت احمدی یتیم بچوں کے علاوہ غیر از جماعت اور عیسائیوں کے بچوں کا بھی خرچ برداشت کرتی ہے۔لیکن اس وقت میں پاکستان کے حوالے سے بیتامی کی خبر گیری کی جو تحریک ہے اس کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان میں یکصد یتامی کمیٹی کام کر رہی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے 1989ء میں جو بلی سال میں شکرانے کے طور پر یہ تحریک فرمائی تھی کہ ہم سو یتیموں کا خیال رکھیں گے۔اب اس کے کام میں بہت وسعت پیدا ہو چکی ہے۔پہلے تو سو (100) یتیم ہوسٹل میں رکھنے تھے لیکن ان کے عزیزوں اور رشتے داروں نے (جو ضرورت مند تھے) یہی کہا کہ ہم انہیں اپنے پاس رکھیں گے جماعت ان کے اخراجات پورے کر دے۔۔تو بہر حال وہ تعداد اب سو سے بہت بڑھ چکی ہے۔اور اس کام میں بڑی وسعت پیدا ہو چکی ہے۔یتیموں کے خبر گیری کے الہی احکامات اور احادیث ہم نے سنیں۔ان سے اس کی اہمیت کا اندازہ بھی لگ