خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 107
خطبات مسرور جلد ہشتم 107 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 ان سے رجوع کرو۔اور ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرو۔مقصود یتیم کی تعلیم و تربیت ہے۔تمہیں مشکل میں ڈالنا نہیں۔اس لئے اگر جماعت کی مدد کی ضرورت ہے تو جماعت کو آگاہ کرو۔پھر یتیم کی تکریم اور عزت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ (الفجر :18) کہ خبر دار! در حقیقت تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔اور اس عزت نہ کرنے اور بعض دوسری نیکیوں کو نہ بجالانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبر دی ہے۔دوسری جگہ فرمایا کہ فَذلِكَ الَّذِي يَدُعُ الْيَتِيم ( الماعون: 3)۔پس وہی ہے جو یتیم کو دھتکار تا ہے۔اس آیت میں ایسے بے دینوں کا ذکر ہے ، جن کی علاوہ اور نشانیوں کے ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ یتیم کو دھتکارتے ہیں۔پس یہ بھی ایک ایسی برائی ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے کہ یہ معاشرہ کی گراوٹ اور بربادی کی علامت ہے۔پس اعلیٰ معاشرے کے قیام کے لئے اس بُرائی کو دور کرنے کی بہت کوشش ہونی چاہئے۔کیونکہ یتیموں کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے سے جماعت میں سے قربانی کا مادہ ختم ہو جاتا ہے۔اور جو یتیم ہیں اگر ان کے حقوق کی ادائیگی نہ کی جائے تو ان کی ترقی میں روک بن جاتا ہے۔انہیں آگے بڑھنے سے محروم کر دیتا ہے۔اور اگر اس کا صحیح طور پر سدباب نہ کیا جائے تو امیر غریب کے فاصلے بڑھنے شروع ہو جاتے ہیں۔اور پھر پُر امن معاشرے کی بجائے فسادی معاشرہ جنم لینا شروع کر دیتا ہے۔جبکہ خدا تعالیٰ کو انسانوں کے حقوق کی ادائیگی نہ صرف پسند ہے بلکہ ایک مومن کے لئے فرض قرار دی گئی ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے والے ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ پھر یتیموں کی کس طرح پرورش کرتے ہیں ؟ فرمایا۔وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمَا وَ آسِيرًا (الدھر : 9)۔وہ کھانے کو اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے مسکینوں، اور یتیموں اور اسیر وں کو کھلاتے ہیں۔پس یہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قربانی کرتے ہیں۔معاشرے کے محروم طبقہ کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔اور کھانے کا انتظام کیا ہے ؟ ان کی تربیت اور پرورش کا انتظام، تعلیم کا انتظام اور باوجود اس کے کہ وہ خود ضرورتمند ہوتے ہیں یا بہتر مالی حالت کی خواہش رکھتے ہیں اور گو کہ مناسب گزارہ ہو رہا ہوتا ہے مگر اتنے اچھے حالات نہیں ہوتے۔لیکن وہ قربانی کرتے ہوئے یتیموں کا حق ادا کرتے ہیں۔پس ”چاہت ہوتے ہوئے“ کے جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ان سے یہ بتادیا کہ وہ اپنا بچاکھچا ہوا نہیں دیتے بلکہ وہ چیز دیتے ہیں جو ان کی چاہت ہے، جو ان کی پسندیدہ چیز ہے۔یہ اصل قربانی ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز قربان کی جائے تاکہ معاشرے کا محروم طبقہ اس محرومیت سے نکل کر برابری کے درجہ پر آجائے اور اس کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع فراہم ہو جائیں۔پس یہ وہ خوبصورت معاشرہ ہے جس کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ ہمیں تلقین اور ہدایت فرماتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ کی بھی اس پر بہت زور دیا کرتے تھے۔ایک حدیث میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔اسی طرح کی، س سے ملتی جلتی دو اور حدیثیں میں پیش کرتا ہوں جو یتیم کی پرورش کرنے والے کے مقام کا پتہ دیتی ہیں۔