خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 109
خطبات مسرور جلد ہشتم 109 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 گیا کہ یہ کتنا اہم کام ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اس کام میں وسعت پیدا ہو چکی ہے۔اس وقت تک پاکستان میں بجائے 100 کے 500 خاندان کے دو ہزار سات سو یتیم ہیں جو اس کمیٹی کے زیر کفالت ہیں۔اور ان پر ماہوار چھپیں تیس لاکھ روپیہ خرچ ہوتا ہے۔اور یہ خرچ بڑی احتیاط سے کیا جاتا ہے۔یہ نہیں کہ ضائع کیا جا رہا ہے۔اس میں کھانے پینے کے اخراجات ہیں۔ان کی تعلیم و تربیت کے اخراجات ہیں۔پھر علاج معالجہ کے اخراجات ہیں۔پھر جو بچیاں جوان ہوتی ہیں ان کی شادیوں کے اخراجات بھی اسی میں سے کئے جاتے ہیں۔پھر بعض ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے مکان وغیرہ بنائے لیکن اس کو maintain کرنے کے ، مرمت کرنے کے پیسے ان کے پاس نہیں ہوتے تو وہ بھی دیئے جاتے ہیں۔بہر حال ایک وسیع خرچ ہے۔اور اس فنڈ میں وہاں شدت سے اضافہ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔صدر صاحب یتامی کمیٹی ڈھکے چھپے الفاظ میں توجہ دلاتے رہتے ہیں۔واضح طور پر تو انہوں نے کبھی نہیں کہا۔لیکن دعا کے لئے کہتے ہوئے پتہ چل رہا ہوتا ہے۔اس لئے میں آج تمام ان پاکستانی احمدیوں کو جو امریکہ ، کینیڈا اور یورپ یا انگلستان میں رہتے ہیں یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ اس تحریک میں حصہ لیں اور اس سے بڑی خوش قسمتی ایک مومن کے لئے اور کیا ہو سکتی ہے کہ اُسے آنحضرت صلی علیم کے قدموں میں جگہ ملے۔میں نے ایک اندازہ لگایا تھا کہ اگر انگلستان، یورپ، امریکہ اور کینیڈا کے احمدی گھر کے افراد کے حساب سے فی کس سات سے دس پاؤنڈ سالانہ بھی دیں۔ماہانہ نہیں، سالانہ دس پاؤنڈ بھی دیں تو پاکستان میں ان یتامی کا ایک بڑا بوجھ سنبھال سکتے ہیں جن کی کفالت یتامی کمیٹی کر رہی ہے۔یہاں رہنے والوں کے لیے تو سال میں دس پاؤنڈ ایک معمولی رقم ہے۔لیکن اگر گھر کا ہر فرد دینے والا ہو اور جو مخیر حضرات ہیں وہ اس سے زیادہ بھی دے سکتے ہیں تو یہ دس پاؤنڈ کئی قیموں کے روشن مستقبل میں بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔عموماً وہاں جو مختلف ضروریات کے تحت یتیموں کی مدد کی جاتی ہے اس میں بچپن سے لے کر بڑے ہونے تک ایک ہزار سے تین ہزار تک ماہوار خرچ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ دوسرے اخراجات ہیں۔اسی طرح پاکستان کے جو مخیر احمدی حضرات ہیں، صاحب حیثیت ہیں، ان کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یتیموں کے فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ ”اپنے لئے چاہتے ہوئے بھی وہ خرچ کرتے ہیں“ اس کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔باقی جو پاکستانی احمدیوں کے علاوہ احمدی ہیں ان کو میں حصہ لینے سے روک نہیں رہا۔وہ بھی بے شک حصہ لیں۔اگر ایسی رقمیں آتی ہیں تو انشاء اللہ تعالیٰ ان کی رقوم میں سے افریقہ کے بعض غریب ملکوں میں یا قادیان میں خرچ ہو سکتا ہے لیکن پاکستانیوں کو تو خاص طور پر پاکستان کے یتیموں کے لئے تحریک کر رہاہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم معاشرے کے اس کمزور طبقہ کا حتی الوسع حق ادا کرنے والے بنیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 12 مورخہ 19 تا 25 مارچ 2010 صفحہ 5 تا8)