خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 55

خطبات مسرور جلد ہشتم 55 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 کر دی۔اس کے چند روز بعد ( کہتے ہیں ) مجھے پھر رویا میں حضرت شیخ صاحب کی زیارت ہوئی۔آپ نے سلام پہنچانے پر بہت ہی مسرت کا اظہار کیا اور میرے ہاتھ میں ایک کتاب دے کر فرمایا کہ یہ بطور ہدیہ ہے۔جب میں نے اس رسالہ کو دیکھا تو اس کے سرورق پر اس کا نام ”سراج الاسرار “لکھا ہو ا تھا۔حیات قدسی صفحہ 437-436 مطبوعہ ربوہ) پھر ایک روایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ( ایک خاتون) امۃ الرحمن بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مرزا فضل احمد صاحب مرحوم کی وفات کی خبر آئی ( یہ آپ کے پہلے دو بیٹوں میں سے چھوٹے بیٹے تھے۔) تو مغرب کا وقت تھا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس وقت سے لے کر قریباًعشاء کی نماز تک ٹہلتے رہے۔حضور علیہ السلام جب ٹہلتے تو چہرہ مبارک حضور کا اس طرح ہوتا کہ گویا بشرہ مبارک سے چمک ظاہر ہوتی ہے۔(سیرت المہدی جلد دوم روایت نمبر 1596۔حصہ پنجم۔صفحہ 323 مطبوعہ ربوہ ) میاں رحیم بخش صاحب کی ایک روایت ہے کہ ایک دن کا واقعہ ہے کہ ظہر کی نماز کے بعد حضرت صاحب اندر چلے گئے ( مسجد سے اپنے گھر چلے گئے ) ہم نے پیچھے سنتیں پڑھیں اتنے میں باری کے رستے سے (یعنی کھڑکی کے راستے سے) حضور نے حضرت خلیفہ اول کو بلایا۔حضور کوئی کتاب لکھ رہے تھے اور حکیم صاحب سے اس کے متعلق کوئی حوالہ پوچھا تھا یا کوئی بات پوچھنی تھی۔میں نے اس باری (کھڑ کی) سے جب حضور کو دیکھا حضور کے سر پر پگڑی نہیں تھی، بیٹے رکھے ہوئے تھے۔اس نظارہ کی میں کیفیت بیان نہیں کر سکتا۔وہ مکان مجھے نور سے بھر اہوا نظر آتا تھا۔چہرہ کی وجہ سے مکان منور ہو رہا تھا۔آہ اس نورانی چہرہ کا جب بھی تصور آتا ہے جی میں عجیب قسم کے خیالات موجزن ہوتے ہیں۔اس وقت کا نقشہ اب تک میری آنکھوں میں ہے۔حضور نے حضرت خلیفہ اول سے کوئی بات دریافت کی۔وہ باہر آگئے اور حضور نے پھر اندر سے کنڈ الگالیا۔(رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود غیر مطبوعہ رجسٹر جلد 10 صفحہ 185-184 روایات حضرت میاں رحیم بخش صاحب) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شمائل کے متعلق ڈاکٹر بشارت احمد صاحب اپنی تصنیف ”مجدد اعظم“ میں تحریر کرتے ہیں کہ ” 1906ء میں میں لمبی رخصت لے کر قادیان گیا ہوا تھا۔ایک روز حضرت اقدس کی طبیعت ناساز تھی۔سر میں سخت درد تھا۔مگر اسی تکلیف میں آپ ظہر کی نماز کے لئے مسجد میں تشریف لے آئے۔مجھے سامنے سے آتے نظر آئے تو گو سر درد کی وجہ سے چہرہ پر تکلیف کے آثار تھے لیکن پیشانی پر ایک نور کا شعلہ چمکتا نظر آتا تھا۔جسے دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہو تیں اور دل کو سرور آتا تھا۔آج تک سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ غیر معمولی چمک کس چیز کی تھی۔یہ تو خاص اوقات کا ذکر میں نے کیا جن کا اثر غیر معمولی طور پر دل پر رہ گیاور نہ آپ کے چہرہ پر تقدس کے آثار ایسے نمایاں تھے اور انوار روحانی کی بارش کا وہ سماں نظر آتا تھا کہ نا ممکن تھا کہ کوئی شخص