خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 56

خطبات مسرور جلد ہشتم 56 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 اسے دیکھے اور متاثر نہ ہو۔ہندو تک اس کے مقر تھے۔( یعنی اس بات کا اقرار کرتے تھے ، اس بات کو مانتے تھے)۔(کہتے ہیں کہ) بٹالہ اور قادیان کے درمیان نہر کے کنارے ایک ہندو دکاندار چھابڑی لگا کر بیٹھا رہا کرتا تھا۔وہ کہا کرتا تھا کہ ”مہاراج میں تو ہر ایک آنے جانے والے کو دیکھتا ہوں۔بڑے بڑے پٹھان اور سورما یہ کہتے ہوئے ادھر سے گزرے ہیں کہ آج مرزا کا فیصلہ کر کے آویں گے لیکن جب واپس گئے تو مرزا کے ہی گن گاتے ہوئے گئے۔مہاراج مرزا تو کوئی دیوی کا روپ ہے“۔( یہ ایک ہندو کی تصدیق ہے۔) مجد داعظم جلد دوم صفحہ 1242۔بار اول 1940ء شائع کردہ احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور ) پھر ڈاکٹر بشارت صاحب ہی ایک روایت کرتے ہیں کہ ”وہ آثار تقدس اور انوار آسمانی جو آپ کے چہرہ پر ہر وقت نظر آتے تھے ان کو نہ قلم بیان کر سکتی ہے نہ فوٹو دکھا سکتا ہے۔جس وقت آپ ایک چھوٹے سے دروازہ کے ذریعہ گھر میں سے نکل کر مسجد میں تشریف لاتے تو یہ معلوم ہوتا کہ ایک نور کا جھمگٹا سامنے آکھڑا ہوا۔سب سے پہلے خاکسار مولف نے حضرت اقدس کو سیالکوٹ میں 1891ء میں دیکھا تھا۔آپ حکیم حسام الدین مرحوم کے مکان سے نکلے۔گلی میں سے گزر کر سامنے کے مکان میں چلے گئے۔لیکن مجھے ایسا معلوم ہوا کہ ایک نور کا پتلا آنکھوں کے سامنے سے گزر گیا۔جو مقدس سے مقدس شکل میرا ذہن تجویز کر سکتا تھا وہ اس سے بھی بڑھ کر تھا اور بے اختیار میرے دل نے کہا کہ یہ شکل جھوٹے کی نہیں بلکہ کسی بڑے مقدس انسان کی ہے۔ایک دفعہ سردیوں کا موسم تھا۔میں قادیان گیا ہوا تھا۔شام کا وقت اور بارش ہو رہی تھی اور نہایت سرد ہوا چل رہی تھی۔مسجد مبارک میں جہاں نماز مغرب پڑھی جاتی تھی۔کچھ اندھیر اساہو رہا تھا۔حضرت اقدس اندر سے تشریف لائے تو موم بتی روشن کی ہوئی آپ کے ہاتھ میں تھی جس کا عکس آپ کے چہرہ مبارک پر پڑ رہا تھا۔اللہ ، اللہ جو نور اس وقت آپ کے چہرہ پر مجھے نظر آیا وہ نظارہ آج تک نہیں بھولتا۔چہرہ آفتاب کی طرح چمک رہا تھا جس کے سامنے وہ شمع بے نور نظر آتی تھی۔“ (مسجد داعظم جلد دوم صفحہ 1241-1242۔بار اول 1940ء شائع کردہ احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور ) حضرت چوہدری برکت علی خان صاحب گڑھ شنکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بیعت کی منظوری آنے کے ایک مہینے بعد میں نے ڈاکٹر صاحب ( یعنی حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب ) سے عرض کیا کہ میں قادیان جا کر دستی بیعت بھی کرنا چاہتا ہوں مگر میں کبھی گڑھ شنکر سے باہر نہیں گیا۔نہ ریل کبھی دیکھی ہے۔مجھے قادیان کا راستہ بتادیں۔آپ نے کہا یہاں سے بنگہ پہنچو۔وہاں میاں رحمت اللہ صاحب مر حوم باغانوالہ کی دکان پر جا کر ان سے کہنا کہ پھگواڑہ ریلوے سٹیشن کا راستہ بتا دیں اور پھر وہاں سے بٹالہ چلے جانا، بٹالے رات کو دس بجے پہنچ جاؤ گے اور ٹھہرنے کی کوئی جگہ معین نہیں ہے۔سٹیشن پر ٹھہر جاناتو بٹالہ سے پھر قادیان کچی سڑک جاتی ہے۔صبح فجر کے بعد قادیان چلے جانا۔تو کہتے ہیں انہوں نے راستہ بتا دیا۔میں روانہ ہوا اور جب بٹالہ سٹیشن سے نکلا تو سٹرک پر