خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 54
خطبات مسرور جلد ہشتم 54 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 اور غلام صادق کے بارہ میں، اس کے مقام کے بارہ میں آنحضرت صلی نیلم نے بھی یوں فرمایا تھا کہ میرے اور میرے مہدی کے درمیان کوئی نبی نہیں۔(سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب خروج الدجال حدیث نمبر 4324) پس یہ مقام نبوت بھی آپ کو اس فنا کی وجہ سے ملا۔یہ عشق و محبت کی باتیں ہیں جو حسن و احسان میں اور مقام میں نظیر بناتی ہیں۔لیکن انسان کامل ایک ہی تھا جو صرف اور صرف آنحضرت صلی علی یم کی ذات ہے۔حضرت خلیفہ ثانی نے بھی اپنے ایک شعر میں فرمایا ہے کہ شاگر د نے جو پایا استاد کی دولت ہے احمد کو محمد سے تم کیسے جدا سمجھے کوئی احمدی ایک لمحے کے لئے بھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام آنحضرت صلی علیکم سے بڑھ کر ہے۔یہ الزام جماعت پر ، احمد یوں پر آئے دن لگتے رہتے ہیں لیکن اصل میں احمدی ہی ہیں جن کو آنحضرت صلی للی کم کے مقام کا، آپ کے نور کا صحیح فہم و ادراک ہے۔آقا و غلام کے تعلق کے بارہ میں حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ایک روایت میں فرماتے ہیں۔انہوں نے ایک رؤیا دیکھی۔کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد سعادت میں ایک دفعہ میں نے رویا میں دیکھا کہ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی علی کم ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خاکسار تینوں ایک جگہ کھڑے ہیں۔آنحضرت صلی علیہ کم کا چہرہ مبارک سورج کی طرح تاباں ہے (روشن ہے) اور آپ مشرق کی طرف منہ کئے ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا چہرہ مبارک چاند کی طرح روشن ہے۔اور آپ مغرب کی طرف منہ کئے ہوئے ہیں۔اور (کہتے ہیں کہ ) خاکسار ان دونوں مقدس ہستیوں کے درمیان میں کھڑا ہے۔ان کے روشن چہروں کو دیکھ رہا ہے اور اپنی خوش بختی اور سعادت پر نازاں ہو کر یہ فقرہ کہہ رہا ہے کہ ”ہم کس قدر خوش نصیب اور بلند بخت ہیں کہ ہم نے حضرت محمد رسول اللہ صلی علیہ یکم کو بھی پایا اور حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام کو بھی پالیا۔کہتے ہیں کہ) اُس وقت جب میں نے ان دونوں مقدسوں کے چہروں کی طرف نگاہ کی تو مجھے ایسا نظر آیا کہ حضرت مسیح موعود کا چہرہ مبارک آنحضرت صلی اللی نام کے چہرہ مبارک کے نور سے منور ہو رہا ہے۔(پھر کہتے ہیں کہ ) اس رؤیا کے بعد جب میں دوسری رات سویا تو خواب میں مجھے حضرت شیخ سعدی شیرازی رحمہ اللہ ملے اور فرمایا کہ ” آپ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں کہ آپ نے امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ پایا ہے“۔پھر فرمایا کہ ”میری طرف سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حضور السلام علیکم عرض کر دینا“۔(کہتے ہیں کہ) میں اُن دنوں اپنے وطن موضع را جیکی میں مقیم تھا۔اس وقت تک جماعت کا نام احمدی نہ رکھا گیا تھا۔میں جب صبح بیدار ہوا تو حضرت شیخ سعدی کی خواہش کے مطابق ایک عریضہ ( ایک خط) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت عالیہ میں لکھ کر آپ کا تحفہ سلام ( یعنی شیخ سعدی کا سلام) حضور کی خدمت میں عرض کر دیا اور اپنی رؤیا بھی بیان