خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 13
خطبات مسرور جلد ہشتم 13 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2010 پوری کی جائیں اور اس کے لئے جو افراد جماعت ہیں وہ چند ہ ادا کرتے ہیں۔جماعت کے چندہ کے نظام میں بعض لازمی چندہ جات ہیں جیسے زکوۃ ہے۔وصیت کا چندہ ہے۔چندہ عام ہے۔جلسہ سالانہ ہے اور اس کے علاوہ بھی بعض دوسرے چندے ہیں جو لازمی نہیں ہیں۔زکوۃ کا جو نظام ہے یہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔آنحضرت صلی الم اس کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا اور اس کی وصولی کے لئے آنحضرت صلی الم کے وصال کے بعد بھی جب ایک گروہ نے مسلمان کہلانے کے باوجود اس کی ادائیگی سے انکار کیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سختی کر کے بھی زکواۃ وصول کی۔( صحیح بخاری کتاب استتابة المرتدين۔۔۔باب قتل من ابى قبول الفرائض۔۔۔حدیث نمبر 6925) پس جن پر زکوۃ واجب ہے ان کے لئے اس کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔اور اسی طرح زکوۃ کی فرضیت کے باوجود بھی اور اس کی وصولی کے باوجود بھی بعض اوقات ایسی ضروریات پڑتی تھیں جب آنحضرت صلی اللیل والے بعض مہمات کے لئے زائد چندہ کی تحریک فرمایا کرتے تھے۔نظام وصیت (السيرة الحلبية جلد 3 "غزوة تبوک “ صفحہ 183-184 دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) پھر جماعت میں جیسا کہ میں نے کہا وصیت کا ایک نظام ہے۔یہ وصیت کا چندہ ایک ایسا چندہ ہے جو نظام وصیت کے جاری ہونے کے ساتھ جاری ہوا۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ 1905ء میں اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو جاری فرمایا اور اس نظام میں شامل ہونے والے ہر شخص کے لئے ضروری قرار دیا کہ وہ 1/10 سے لے کر 1/3 تک اپنی آمد اور جائیداد کی وصیت کر سکتا ہے اور وصیت کرنے کے بعد یہ عہد کرتا ہے کہ میں تا زندگی اپنی آمد کا 1/10 سے 1/3 تک ( جو بھی کوئی اپنے حالات کے مطابق خوشی سے شرح مقرر کرتا ہے) ادا کروں گا۔اسی طرح اگر زندگی میں نہ ادا کیا گیا ہو تو مرنے کے بعد بھی جائیداد میں سے اسی شرح کے اندر رہتے ہوئے جو پیش کی گئی ہو اپنے عہد کے مطابق اس کی ادائیگی کے لئے اپنے ورثاء کو کہہ کے جاتا ہے۔اور ہر موصی سے یہی توقع رکھی جاتی ہے اور رکھی جانی چاہئے کہ وہ تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی حقیقی آمد میں سے چندہ ادا کرے اور اس بارہ میں کسی قسم کا عذر نہ کرے اور عموماً موصی نہیں کرتے۔موصی۔قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے پس ہر موصی کو خود بھی ہر وقت اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ کہیں تقویٰ سے ہٹ کر میں