خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 14

خطبات مسرور جلد ہشتم 14 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2010 اپنی کسی آمد کو چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو ظاہر نہ کرکے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہد میں خیانت تو نہیں کر رہا؟ پس موصیان اور موصیات جماعت میں چندہ دینے والوں کا وہ گروہ ہے جس کے متعلق یہی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تقویٰ کے اعلیٰ معیاروں کے حصول کی کوشش کرنے والے ہیں اور ہر لحاظ سے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہیں جو اپنی آمد اور جائیداد کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی خوشی سے پیش کرتے ہیں۔نیز اپنے اعمال پر نظر رکھنے والے ہیں اور اس کے لئے کوشش کرنے والے ہیں۔اپنی عبادتوں کے معیار بلند تر کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔اپنے اخلاق بهترین رنگ میں سنوارنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔حقیقی مومن بننے کی طرف ہر طرح سے کوشش کرتے ہوئے قدم بڑھانے والے ہیں۔اللہ کرے کہ ہر موصی اسی جذبہ سے وصیت کرنے والا اور اس کو قائم رکھنے والا ہو۔زکوۃ کے بارہ میں تو کہہ چکا ہوں۔پھر ایک چندہ عام ہے۔یہ بھی جماعت میں رائج ہے جو شرح کے لحاظ سے 1/16 ہے اور خلافت ثانیہ میں چندہ عام کا یہ نظام باقاعدہ اس شرح سے جاری ہوا۔یہ چندہ بھی در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہی جاری ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بارے میں بڑی سختی سے فرمایا ہے کہ اس کو اپنے اوپر فرض کرو اور ماہوار ادا کرو چاہے ایک پیسہ کرو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد سوم صفحہ 358 ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) اسے جو اپنے اوپر مقرر کیا ہے تو اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ پھر 1/16 کیوں؟۔اس بارہ میں یہ واضح ہو کہ حالات کے مطابق اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔پہلے دھیلا تھا۔پھر پیسہ ہوا۔4 پیسے ہوئے۔6 پیسے ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ مالی قربانی کرنے کے لئے باقاعدگی سے دینے کے لئے اگر چار روٹیاں کھاتے ہو تو دین کی خاطر ایک روٹی قربان کرو۔آپ نے یہ ایک روٹی کی قربانی جو فرمائی ہے تو یہ تو پھر % 25 قربانی ہو گی۔1/16 کی شرح تو نہ رہی۔یہ کم از کم مطالبہ ہے۔پس یہ کہنا کہ ایک پیسہ یا پھر مرضی پر چھوڑا گیا ہے کہ کتنا چندہ ادا کرنا ہے ، یہ غلط ہے۔مطالبہ کا انحصار جماعتی ضروریات کے مطابق ہے اور اخراجات کے مطابق ہے۔جس طرح نئے پروگرام بنتے ہیں ان کے مطابق بعض تحریکات بھی ہوتی ہیں۔پس ان سب چندوں کے باوجود جب بھی اخراجات میں اضافہ ہوا ، جماعتی پروگراموں اور ان کی منصوبہ بندی میں وسعت پیدا ہوئی۔اسلام کے حقیقی پیغام کو پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے امام کو بھیجا ہے اس کے (ماخوذ ملفوظات جلد سوم صفحه 361 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)