خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 576 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 576

خطبات مسرور جلد ہفتم 576 خطبه جمعه فرموده 11 دسمبر 2009 ذات سے علیحدہ ہو کر آپ کا کچھ بھی مقام نہیں ہے اور ہم اس وقت تک خدا تعالیٰ کے نور سے فیضیاب ہو سکتے ہیں جب تک اُس آفتاب ہدایت کے سامنے کھڑے رہیں گے جسے خدا تعالیٰ نے سِرَاجًا مُنِيرًا کہا ہے۔سورۃ مائدہ کی دوسری آیت 17 جو میں نے پڑھی تھی اس میں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دونو ر ہیں ایک حضرت اقدس محمد مصطفی یا اللہ کی ذات اور دوسرا قرآن کریم۔گزشتہ آیت کا حوالہ دیتے ہوئے اب اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہی دو چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنیں گی اور ہیں اور یہی دو چیزیں ہیں جو سلامتی کی راہوں کی طرف لے جانے والی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہیں۔سلامتی کی راہیں کیا ہیں؟ یہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے یا پہنچانے کے مختلف راستے ہیں جو محفوظ طریقہ سے خدا تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں۔ہر راستہ پر شیطان بیٹھا ہے لیکن سلامتی کی راہیں وہ ہیں جہاں اللہ تعالیٰ تک انسان شیطان سے بچ کر پہنچ جاتا ہے اور نور سے فیض پاتا ہے۔اور یہ سلامتی کی راہیں ان کو ملتی ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہدایت پاتے ہوئے اس کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں۔اس کے قدم پھر اندھیروں سے نکل کر ٹور کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔وہ صراط مستقیم پر چل پڑتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کی روشن کتاب سے فیض پانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کی ضرورت ہے یا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ان دونوں چیزوں سے جانا ضروری ہے۔آنحضرت مے کے بعد اللہ تعالیٰ کی رضا کا جو اعلیٰ ترین نمونہ ہے وہ آپ کی تربیت کی وجہ سے، قوت قدسی کی وجہ سے آپ کے صحابہ نے دکھایا۔اور وہ لوگ پھر صرف اندھیروں سے روشنی کی طرف ہی نہیں آئے بلکہ انہوں نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ کا اعزاز پایا۔پس صحابہ رسول اللہ اللہ بھی ان ٹوروں سے فیض پا کر ہمارے لئے اسوہ حسنہ بن گئے۔ان کے بارہ میں آنحضرت مہ نے فرمایا کہ وہ ستاروں کی مانند ہیں جن سے تم راستوں کی طرف راہنمائی حاصل کرتے ہو۔پس یہ لوگ بھی وہ تھے جو صراط مستقیم پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن گئے۔پس کیا خوش قسمت تھے وہ لوگ جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے براہ راست فیض پایا اور اندھیروں سے نور کی طرف جانے کی منزلیں جلد جلد طے کرتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن گئے۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق آخری زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کو بھیجا جس کو پھر اپنے آقا و مطاع کے نور کا پر تو بنا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ؎ مصطفى پر تیرا بجد ہو سلام اور رحمت اُس نور لیا بار خدایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 225 ) اور آپ پر جب اس ٹور کی انتہا ہوئی تو آپ سے براہ راست فیض پانے والے بھی اپنے دلوں کو ٹو ر سے بھرتے