خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 577 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 577

577 خطبہ جمعہ فرموده 11 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ہوئے صراط مستقیم پر قائم ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن گئے۔توحید کا قیام کرنے والے بن گئے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو صراط مستقیم کی دعا سکھائی ہے تو اس کے لئے اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق اُس نور سے فیض حاصل کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا ہے کہ ہر ایک کو اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق نور ملتا ہے، کسی کو کم اور کسی کو زیادہ۔لیکن ملتا ضرور ہے۔نور سے فائدہ ہر انسان ضرور اٹھاتا ہے۔ہر مومن اٹھاتا ہے جو نیک نیتی سے اس کی طرف بڑھے گا۔اللہ تعالیٰ کسی کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔اس لئے یہ نہیں فرمایا کہ ہر ایک نے بہر حال اس مقام تک پہنچنا ہے جو اعلیٰ ترین مقام ہے۔لیکن کوشش کا حکم ہے۔جس کے لئے پوری طرح کوشش ہونی چاہئے۔بے شک صراط مستقیم کی طرف اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیتا ہے اور اس کے لئے اس نے ہمیں دعا بھی سکھائی ہے جو ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں لیکن اس کے لئے کوشش کا بھی حکم ہے۔فرمایا کہ صراط مستقیم پر چلنے کے لئے نور کی ضرورت ہے اور نور اللہ تعالٰی ، اس کے رسول ﷺ اور قرآن کریم سے حاصل ہوگا اور جو اس کے حصول کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ پھر ایسے شخص کو صراط مستقیم پر چلاتے ہوئے اس ٹور سے فیض حاصل کرنے والا بنا تا چلا جائے گا۔صراط مستقیم کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”صراط مستقیم جو حق اور حکمت پر مبنی ہے تین قسم پر ہے۔علمی اور عملی اور حالی۔اور پھر یہ تینوں تین قسم پر ہے۔علمی میں حق اللہ اور حق العباد اور حق النفس کا شناخت کرنا ہے“۔( علمی صراط مستقیم یہ ہے کہ اللہ کاحق تلاش کرو، بندوں کے حقوق کی پہچان کرو اور اپنے نفس کے حق کی پہچان کروا ور عملی صراط مستقیم جو ہے)۔فرمایا کہ اور عملی میں ان حقوق کو بجالانا‘۔عملی صراط مستقیم یہ ہے کہ یہ حق جس کی شناخت کرنی ہے ان پر پھر عمل کیا جائے۔) فرماتے ہیں کہ " مثلاً حق علمی یہ ہے کہ اس کو ایک سمجھنا“۔خدا تعالیٰ کو ایک سمجھنا ) اور اس کو مبدء تمام فیوض کا اور جامع تمام خوبیوں کا اور مرجع اور ماب ہر ایک چیز کا اور منزہ ہر ایک عیب اور نقصان سے جاننا اور جامع تمام صفات کا ملہ ہونا اور قابل عبودیت ہونا “۔( یعنی اللہ تعالیٰ کا جوحق علمی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک سمجھنا۔انسان کو تمام فیض جو پہنچتے ہیں، جو نعمتیں حاصل ہوتی ہیں اور جو کچھ بھی وہ حاصل کر رہا ہے اس کو پیدا کرنے والا خدا تعالیٰ کو سمجھنا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں اور تمام خوبیوں کا جامع وہ ہے اور ہر ایک چیز نے اسی کی طرف لوٹنا ہے اور ہر ایک عیب سے وہ پاک ہے اور تمام صفات جتنی اس کی صفات ہیں ان کا وہ جامع ہے چاہے وہ صفات ہمیں معلوم ہیں یا ہمیں نہیں معلوم اور کامل طور پر اس کی بندگی میں آ جانا۔یہ ہے اللہ تعالیٰ کا حق ) اور فرمایا کہ اس میں محصور رکھنا۔یہ تو حق اللہ میں علمی صراط مستقیم ہے۔( یہ جو باتیں بیان کی گئی ہیں اسی دائرے میں اپنے آپ کو رکھنا اس سے باہر نہ نکلنے دینا۔اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کی یہ علمی صراط مستقیم ہے )۔اور