خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 575
خطبات مسرور جلد ہفتم 575 خطبہ جمعہ فرموده 11 دسمبر 2009 وہ اللہ کا نور ہے جس نے علوم کو نئے سرے سے زندہ کیا۔وہی برگزیدہ اور چنیدہ ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے اور فیض طلب کیا جاتا ہے۔پس علوم معارف کا خزانہ اب آنحضرت اللہ کی ذات اور قرآن کریم ہے۔لیکن اس کو سمجھنے کے لئے آنکھ میں نور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔جس کا پیدا کرنا اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جوڑ کر ہی مقدر کر دیا ہے۔پس خوش قسمت ہیں وہ جو اس نور کو حاصل کرنے کے لئے آپ کی بیعت کا حق ادا کرنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ بیان فرماتے ہوئے کہ میں نے یہ مقام کس طرح پایا ، فرماتے ہیں کہ : میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار درود اور سلام اس پر )۔یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مراد ہیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں بلکہ ذریت شیطان ہے“۔( کہ اب جو کچھ ہے وہ آنحضرت ﷺ سے منسوب ہو کر ہی ہے۔جو اس کے علاوہ کوئی دعوی کرتا ہے وہ اللہ کا بندہ نہیں کہلا سکتا پھر وہ شیطان کی ذریت ہے۔) فرمایا ” کیونکہ ہر ایک فضلیت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔( وہ ہمیشہ محروم رہے گا )۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے؟ ہم کا فرنعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے ٹور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں“۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 119-118) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اقتباس میں آنحضرت ﷺ کے مقام پر جو آپ کی نظر میں ہے، روشنی پڑتی ہے۔اگر فطرت نیک ہو تو آپ پر اعتراض کرنے والوں کے لئے یہ کافی جواب ہے کہ آنحضرت یہی ہے کی