خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 543 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 543

543 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم فقیروں کے درباروں پر حاضریاں لگانی شروع کر دیں۔جس کا غیروں میں بہت رواج ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ محفوظ رکھے جماعت کو اس بدعت سے۔دعا کے لئے کہنا منع نہیں ہے۔مومنوں کو ایک دوسروں کے لئے دعائیں کرنی بھی چاہئیں اور کہنا بھی چاہئے لیکن اس کے ساتھ خود بھی دعاؤں کی طرف توجہ ہونی چاہئے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ کسی مشکل میں نہیں بلکہ عام حالت میں خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق ہو جو اللہ تعالیٰ کے ولی ہونے کا حق ادا کرنے والا ہو اور جب یہ حالت ہوگی تو تبھی کہا جا سکتا ہے کہ انسان نے ادھر ادھر پنا ہیں ڈھونڈے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔اس بات کو مزید کھولنے کے لئے کہ کیوں خدا تعالیٰ کی پناہ تلاش کی جائے اور باقی ہر وسیلے کو خدا تعالیٰ کے مقابلے پر لاشئی محض سمجھا جائے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا ہے کہ قُلْ اَ غَيْرَ اللَّهِ اتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ المُشْرِكِيْنَ (الانعام: 15) تو کہہ دے کہ کیا اللہ کے سوا میں کوئی دوست پکڑ لوں جو آسمانوں اور زمین کی پیدائش کا آغاز کرنے والا ہے اور وہ سب کو کھلاتا ہے جبکہ اسے کھلایا نہیں جاتا۔تو کہہ دے کہ یقیناً مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہر ایک سے جس نے فرمانبرداری کی ، اول رہوں اور تو ہرگز مشرکین میں سے نہ بن۔پس زمین و آسمان کا مالک تو وہ خدا ہے۔یہ کتنی بڑی بے وقوفی ہے کہ جو مالک ہے اس کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی مخلوق کو مدد کے لئے پکارا جائے ، اس مخلوق کے سہارے ڈھونڈے جائیں۔خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کا آغاز کیا۔اس نے سب کچھ پیدا فرمایا۔اس کو بنانے والا وہ ہے۔اس میں ہر موجود چیز خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے۔پس جو پیدا کرنے والا اور اصل مالک ہے اس کو چھوڑ کر غیر اللہ کی جھولی میں گرنا کتنی بڑی حماقت ہے۔پھر مزید اس دلیل کو مضبوط کیا کہ اس نے پیدا کر کے آغاز کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ غذا جو ہماری بقا کے لئے ضروری ہے اس کا انتظام بھی اس خدا نے کیا ہے۔پس جب زندگی کی بقا کے سامان خدا نے کئے ہیں تو کسی دوسرے کی دولت ، حکومت ، اثر و رسوخ دیکھ کر اس پر گرنا یقینا جہالت ہے۔جس کے دروازوں پر انسان گرتا ہے وہ تو خود مخلوق ہونے کے ناطے خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں اور جو خود کسی کا محتاج ہوا اور کسی سے لے رہا ہو اور اس کو دینے والے سے مانگنے کی بجائے لینے والے سے مانگنا یہ تو پرلے درجے کی حماقت ہے۔جبکہ جن دنیا داروں کے در پر تم گر رہے ہو ان کو دینے والا خود تمہیں کہہ رہا ہے کہ میرے پاس آؤ میں تمہاری حاجات پوری کروں گا اور پھر یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کوکوئی نہیں کھلاتا۔ایک تو یہ کہ مالک کل ہے۔اس کو اس کی مخلوق نے کیا دینا ہے۔دوسرے اصل مطلب یہ ہے کہ اس کو کھانے کی احتیاج ہی نہیں ہے۔اس کی بقا تمہاری طرح مادی وسائل سے نہیں ہے۔اس کو کسی خوراک اور لباس کی یا دوسری اشیاء کی ضرورت نہیں ہے۔پس یہ مادی ضرورتیں انسان کی ہیں خدا تعالیٰ کی نہیں اور جس کی یہ ضرورتیں نہیں اور جو تمام وسائل کا منبع اور مہیا کرنے والا ہے اس کو چھوڑ کر ایک مومن کس طرح دوسرے کے در کو پکڑسکتا ہے۔