خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 544 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 544

544 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پس اس خدا کی پناہ میں آنا ہر مومن کی زندگی کا مقصود ہونا چاہئے۔ہر مومن کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس خدا کی عبادت کرنا میرا مطمح نظر ہو۔اس خدا کے آگے اپنی ضروریات رکھنا یہی ایک مومن اور ایک انسان کی عظمندی کا تقاضا ہے۔پس اس خدا کی کامل فرمانبرداری کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے اور جو ایسے لوگ ہیں یہی حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے اولیاء ہوتے ہیں اور پھر ان سے بڑھ کر انبیاء کا درجہ ہے جو یقیناً اولیاء بھی ہیں۔اس مقام کو حاصل کرنے کے بعد اس پر قائم رہنے اور اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے۔فرماتا ہے رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْاحَادِيثِ۔فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِي فِى الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَالْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ (يوسف: 102) کہ اے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے ! تو دنیا اور آخرت میں میرا دوست ہے۔مجھے فرمانبردار ہونے کی حالت میں وفات دے اور مجھے صالحین کے زمرہ میں شامل کر۔خدا تعالیٰ کے ولیوں کو نہ ہی کشائش اور نہ ہی بُرے حالات خدا تعالیٰ کو بھلانے کا باعث بنتے ہیں۔انہیں ہر حالت میں خدایا درہتا ہے اور وہ اس پر قائم رہنے کے لئے کہ ہر آن خدا تعالیٰ سے ہی حاصل کرنا ہے یہ دعا بھی مانگتے ہیں جو بیان ہوئی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ حضرت یوسف کی دعا تھی جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔اور اس دعا کا بیان اس لئے ہے کہ ہم بھی خدا تعالیٰ سے تعلق اور روحانی ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ سے قرب بڑھانے کے لئے یہ دعا کیا کریں دنیاوی کامیابیاں ہمیں خدا تعالیٰ کی ذات سے دور نہ لے جائیں اور ابتلاء اور مشکلات ہمیں خدا تعالیٰ کی ذات سے بدظن نہ کر دیں۔بلکہ یہ دعا ہو کہ خدا تعالیٰ ہمیں ہر حالت میں فرمانبرداری کرتے ہوئے وفات دے۔ہمارا شمار ہمیشہ ان میں ہو جو صالحین اور خدا تعالیٰ کے ولی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ دعا کا طریق بھی ہمیں سمجھا دیا کہ یہ دعا کس طرح کرنی ہے۔ولی بننے کے لئے کس طرح کوشش کرنی ہے۔کسی حالت میں تم خدا تعالیٰ کے قریب ہوتے ہو کہ جب خدا تعالیٰ تمہاری دعائیں سنتا ہے اور تمہیں اپنے قرب سے نوازتا ہے اس بارہ میں سورۃ طہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرماتے ہوئے کہ جو دنیوی زندگی کے سامان ہیں جو دنیا داروں کو دیئے گئے ہیں انہیں دیکھ کر تمہارے اندر بھی دنیاوی لالچ پیدا نہ ہو جائے بلکہ یہ عارضی رزق ہے۔تم اپنے رب کے اس رزق کی تلاش کرو جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ولی بننے کی کوشش کرو۔دنیاوی لالچ کی وجہ سے نہ دنیا داروں سے دوستی کرو، نہ ہی اس دولت کی طرف اتنے مائل ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ تمہیں بھول جائے۔ہمیشہ یا درکھو کہ جو دنیاوی دولت تمہیں آج نظر آ رہی ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہے۔آجکل بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دنیاوی دولت کا لالچ ہی ہے جس نے دنیا کے دو بلاک بنائے تھے۔پھر ان میں کوششیں ہوئیں تو کمی لانے کی کوشش کی گئی۔روس کی سٹیٹس بنیں اور ٹوٹا۔اب پھر وہی سوچیں ابھر نے لگ گئی ہیں۔بلاک بننے شروع ہو رہے ہیں۔پاکستان افغانستان وغیرہ پر بھی جو