خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 542 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 542

542 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم ہمارا خدا تعالیٰ کو ڈھال بنانا اس وقت حقیقی رنگ اختیار کرے گا جب ہمارا ہر قول وفعل، ہمارا اٹھنا بیٹھنا، ہمارا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو گا۔ہمارا اللہ تعالیٰ سے ایک تعلق قائم ہوگا۔ہماری تمام محبتوں پر خدا تعالیٰ کی محبت حاوی ہوگی۔ہم صرف ولیوں اور پیروں کے قصے سننے والے اور پڑھنے والے نہیں ہوں گے بلکہ اپنی روحانیت کو اس بلندی تک لے جانے والے ہوں گے جہاں ہمارا ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو جائے اور اللہ تعالیٰ سے ایک تعلق پیدا ہو۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ولی بنو۔ولی پرست نہ بنو۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 139 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) تمہارا تعلق خدا تعالیٰ کے پیاروں سے صرف اس لئے نہ ہو کہ ان سے دعائیں کروانی ہیں یا پھر کسی کو ولی سمجھ کر اس کے پیچھے پڑ جاؤ کہ اسی کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور پھر یہ اس حد تک بدعت اختیار کرلے کہ آپ تو دعاؤں کے قریب بھی نہ جاؤ، نمازیں بھی ادا نہ کرو اور کہ دو کہ ہم نے فلاں بزرگ سے تعلق پیدا کر لیا ہے اور یہ کافی ہے۔کسی کی بزرگی کی حالت کو تو خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔لیکن یہ بات واضح ہے کہ ایسے بزرگ جو اپنے آپ کو خدا کا قریبی سمجھ کر صرف یہ کہتا ہے یا کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے میں دعا کروں گا اور تمہارا کام ہو جائے گا اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی تلقین نہیں کرتے ان میں بھی ایک قسم کا تکبر پایا جاتا ہے۔جو بھی تعویذ گنڈہ کرنے والے غیروں میں ہیں ،مسلمانوں میں تو یہ بہت زیادہ یہ رواج ہے ، وہ سب بدعتیں پیدا کرنے والے ہیں۔پس بجائے کسی کا محتاج ہونے کے ایک مومن کا کام ہے کہ خود خدا تعالیٰ سے ایسے رنگ میں تعلق پیدا کرے کہ خدا کا ولی بن جائے۔نہ لوگوں کے پاس یا کسی شخص کے پاس اس نیت سے دعا کروانے جائے کہ صرف اسی کی دعا قبول ہوتی ہے۔نہ ہی اپنے اندر چند دعاؤں کی قبولیت کی وجہ سے یہ تکبر پیدا کرے کہ میرا خدا تعالیٰ سے بڑا تعلق قائم ہو گیا ہے۔حقیقی ولی وہی ہے جس میں عاجزی اور انکسار ہے اور جماعت احمدیہ میں ہر فرد کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس میں حقیقی ولی وہی ہے جس کا خلافت کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے۔جماعت میں بہت بڑے بڑے دعائیں کرنے والے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے بزرگ گزرے ہیں۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی تو خود نوشت کتاب بھی ہے انہوں نے اپنے واقعات بیان کئے ہیں۔ان کے قبولیت دعا کے بے شمار واقعات ہیں باوجود اس کے کہ ان کا اللہ تعالیٰ سے ایک خاص تعلق تھا۔لیکن انہوں نے دعا کروانے والے کو ہمیشہ یہی کہا ہے کہ خلیفہ وقت کے ساتھ تعلق مضبوط کرو اور دعا کے لئے کہو اور خود بھی دعا کرو۔یہ حقیقی ولایت ہے جو عاجزی میں بڑھاتی ہے اور ایسے ولی بننے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نصیحت فرمائی ہے کہ تمہارا حقیقی سہارا ہر وقت خدا تعالیٰ کی ذات ہو۔یہ نہیں کہ جب کسی پریشانی کا وقت آئے تو پیروں اور