خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 33
خطبات مسرور جلد ہفتم 4 33 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2009ء بمطابق 23 صلح 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ان آیات کی تلاوت فرمائی: فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ۔أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ۔وَالَّذِى جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بة أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ لَهُم مَّا يَشَاءُ وُنَ عِندَ رَبِّهِمْ۔ذلِكَ جَزَازُ الْمُحْسِنِينَ لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِي عَمِلُوا وَيَجْزِيَهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ الَّذِى كَانُوا يَعْمَلُونَ۔اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ۔وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ۔وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ، وَمَنْ يَّهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُّضِلَّ أَلَيْسَ اللهُ بِعَزِيزِ ذِي انْتِقَامٍ۔(الزمر آيات 38-33) یہ آیات جومیں نے تلاوت کی ہیں یہ سورۃ الزمر کی 33 سے 38 نمبر کی آیات ہیں۔ترجمہ ان کا پڑھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پس اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور سچائی کو جھٹلا دے جب وہ اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کے لئے ٹھکانہ نہیں ہے اور وہ شخص جو سچائی لے کر آئے اور وہ جو سچائی کی تصدیق کرے۔یہی وہ لوگ ہیں جو متقی ہیں۔ان کے لئے ان کے رب کے حضور وہ کچھ ہو گا۔جو وہ چاہیں گے۔یہ ہو گی حسن عمل کرنے والوں کی جزا تا کہ جو بدترین اعمال انہوں نے کئے ان کے اثرات اللہ ان سے دور کر دے اور جو بہترین اعمال وہ کیا کرتے تھے ان کے مطابق انہیں اُن کا اجر عطا کرے۔کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں اور وہ تجھے ڈراتے ہیں ، ان سے جو اُس کے سوا ہیں اور جسے اللہ گمراہ قرار دے دے تو اس کے لئے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور جسے اللہ ہدایت دے دے تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔کیا اللہ کامل غلبے والا اور انتقام لینے والا نہیں ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بات شروع فرمائی کہ دو قسم کے لوگ ظالم ہوتے ہیں اور اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ، اپنی ہلاکت کے سامان کرتے ہیں۔ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا غلط طریق پر دعوی کرتے ہیں۔اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو سچائی کو جھٹلاتے ہیں۔ایک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو بچے انبیاء کو ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والوں کو جھٹلاتے ہیں جب وہ ان کے پاس آتے ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ اپنا