خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 32

32 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم تھا کہ اس میں ایمان بھی ہے، دعائیں بھی ہیں، نیک اعمال بجالانے کی طرف توجہ بھی ہے۔تو اصل میں حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک بندہ اس طرح پر اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے تو عملاً یہ اظہار کر رہا ہوتا ہے کہ میرے لئے سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور پھر ایسے شخص کے لئے آنحضرت ﷺ نے ضمانت دی ہے کہ ان آیات کا نازل کرنے والا اس بندے کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔اُس کو برائیوں سے بچاتا ہے۔نیکیوں کی توفیق دیتا ہے۔اس میں قناعت پیدا کرتا ہے۔اس کے ہم و غم میں اسے تسلی دیتا ہے۔اسے شیطان سے محفوظ رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں ان آیات کو سمجھتے ہوئے ان کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔میرا خیال تھا کہ قرآن کریم کی بعض اور آیات بھی اس صفت کے حوالے سے بیان کروں گا۔یہ مضمون کافی لمبا ہے باقی آئندہ انشاء اللہ۔اس وقت میں ایک دعا کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں نے گزشتہ دو خطبوں میں بھی اس طرف توجہ دلائی تھی کہ فلسطینیوں کے لئے دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔ان کے حالات تو اب خراب سے خراب تر ہوتے چلے جارہے ہیں اور وہ ظلم کی بڑی خطرناک چکی میں پس رہے ہیں اور اسرائیلیوں کا ظلم بڑھتا چلا جارہا ہے۔اسرائیل کے جو ہمدرد تھے اب تو ان میں سے بھی کئی چیخ اٹھے ہیں۔یہ چیخ و پکار اوپری ہے یا واقعی حقیقت میں ان کو احساس ہوا ہے لیکن شور اب بہر حال مچ رہا ہے۔پہلے خاموش بیٹھنے والے بھی یہی لوگ تھے۔اگر ابتداء سے ہی انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلہ کرتے تو یہ حالات نہ ہوتے۔ان ملکوں کی جو یہ خاموشی رہی ہے، یہ بھی ظلم کا ساتھ دینے والی بات ہے اور ظلم کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔بہر حال معصوم بچے، عورتیں اور بوڑھے جس بے دردی سے شہید کئے جارہے ہیں، اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے بھی رحم اور فضل کی دعا مانگیں، اس وقت ہم ان مظلوموں کی صرف یہی مدد کر سکتے ہیں۔اور دوسرے UN کی بعض منظور شدہ تنظیمیں ہیں اور خود UN کا ادارہ بھی ہے جو ان مریضوں اور بھوکوں کے لئے وہاں دوائیاں اور خوراک پہنچا رہے ہیں۔گو کہ یہ انتظام اتنا معیاری تو نہیں۔بعض جگہوں پر سیح طرح پہنچ بھی نہیں رہا لیکن پھر بھی اگر ایک قسم کی مادی مدد کی جاسکتی ہے تو صرف ان ذرائع سے ہی ان کی مدد ہو سکتی ہے۔اسی طرح Save The Children ایک تنظیم ہے اور دوسری تنظیمیں ہیں ، یہ تنظیمیں وہاں مدد کر رہی ہیں تو ان تنظیموں کی بھی جوڈو نمیشن مانگتی ہیں ہمیں مدد کرنی چاہئے اور ہیومینیٹی فرسٹ بھی کچھ کر کے ان کے ذریعہ سے بھیجے گی اور جماعتی طور پر بھی انشاء اللہ مدد ہو گی۔یہ مد داحمدیوں کو ضرور کرنی چاہئے جن جن کو توفیق ہے۔سب سے بڑھ کر یہ جیسا کہ میں نے کہا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ ان معصوموں پر رحم فرمائے اور ظالم کو پکڑے۔الفضل انٹرنیشنل جلد نمبر 16 شمارہ نمبر 6 مورخہ 6 فروری تا 12 فروری 2006ء صفحہ 5 تا صفحہ 8 )