خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 34
خطبات مسرور جلد ہفتم 34 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 پیغام دے کر انبیاء کو بھیجتا ہے۔جب نبی مبعوث ہوتے ہیں تو ایک گروہ ایسا ہے جو ان کو جھٹلاتا ہے اور انہیں یہ کہتا ہے کہ تم جھوٹے ہو اور خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو۔اس مضمون کو قرآن کریم نے اور جگہ بھی بیان فرمایا ہے۔سورۃ العنکبوت کی آیت 69 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ۔(العنکبوت : 69) اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ کر افتراء کرتا ہے اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے۔یا اُس سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے ) جو حق کو اُس وقت جھٹلاتا ہے جب وہ اُس کے پاس آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ افتراء کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور مفتری ہمیشہ خائب و خاسر رہتا ہے۔قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى (ط : 62)۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 545 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اور آنحضرت ﷺ کو فرمایا کہ اگر تو افتراء کرے تو تیری رگ جان ہم کاٹ ڈالیں گے اور ایسا ہی فرمایا وَمَن أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا (العنکبوت : 69) کہ ایک شخص ان باتوں پر ایمان رکھ کر افتراء کی جرأت کیونکر کر سکتا ہے؟ یعنی اللہ تعالی آنحضرت علی کو بڑا واضح طور پر فرماتا ہے کہ جو جھوٹ بولنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والے ہیں ہم ان کی جورگ جان ہے وہ کاٹ دیں گے اور ان کو خائب و خاسر کریں گے۔جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے گا ذلیل و رسواء ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ایک شخص ان باتوں پر ایمان رکھ کر افتراء کی جرأت کیونکر کر سکتا ہے۔پھر فرمایا کہ ظاہری گورنمنٹ میں اگر ایک شخص فرضی چپڑاسی بن جائے تو اس کو سزا دی جاتی ہے اور وہ جیل میں بھیجا جاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ کی ہی مقتدر حکومت میں یہ اندھیر ہے کہ کوئی محض جھوٹا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا کرے اور پکڑا نہ جائے بلکہ اس کی تائید کی جائے۔اس طرح تو دہریت پھیلتی ہے۔خدا تعالیٰ کی ساری کتابوں میں لکھا ہے کہ مفتری ہلاک کیا جاتا ہے“۔الحکم جلد 8 نمبر 12 مورخہ 10 اپریل 1904ء صفحہ 7 تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 3 صفحہ 624) تو جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر الزام دیتے ہیں ان کا بھی اس بات میں رڈ کیا گیا ہے کہ ایک ظاہری حکومت کی طرف منسوب کر کے اگر کوئی آدمی بات کرتا ہے ، چاہے کسی افسر کا چپڑاسی بن کے کسی کے پاس حکم لے کے چلا جائے اور جھوٹ بولے اور پکڑا جائے تو اس کو بھی سزا ملتی ہے۔تو کیا خدا تعالیٰ کی طرف جو باتیں منسوب کی جاتی ہیں یا کوئی شخص جو یہ کہتا ہے کہ میں اللہ تعالی کی طرف سے ہوں اور وہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اتنی بھی طاقت نہیں کہ اس کو پکڑ لے اور سزا دے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء باند ھے۔یعنی یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جب انبیاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے بات کرتے ہیں تو