خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 298

298 خطبہ جمعہ فرموده 26 جون 2009 خطبات مسرور جلد هفتم تھیں۔حضرت اماں جان کو یہ پتہ نہیں تھا، وہ پہلے کہا کرتی تھیں ان کو کہ تم ماں سے چھٹی رہتی ہو ، باپ سے بھی چھٹا کرو۔تو ایک دن اماں جان نے ان کو زور سے کہا اماں جان نے خود ہی بیان فرمایا۔کہ میں نے جب کہا تو تم ڈر گئیں اور تم نے اس کا جواب دیا چھٹوں گی چھٹوں گی اور ساری عمر چھٹی رہوں گی۔یہ واقعہ بیان کر کے حضرت اماں جان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔سیرت و سوانح حضرت سید المتہ الحئی بیگم صاحبه صفحه 112) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو سفر تھا دہلی کا اور جہاں سیر روحانی کا بعد میں تقاریر کا سلسلہ آپ نے شروع فرمایا تھا وہاں جو نظارہ آپ نے دیکھا تھا اور جو آپ نے اس وقت اونچی آواز میں کہا میں نے پا لیا ہمیں نے پا لیا۔تو حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں اس وقت میرے پیچھے میری بیٹی امتہ القیوم بیگم چلی آرہی تھی ، اس نے کہا ابا جان آپ نے کیا پا لیا۔تو میں نے کہا میں نے بہت کچھ پا لیا، مگر میں اس وقت تم کو نہیں بتا سکتا۔میں اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا جلسہ سالانہ پر بتا دوں گا کہ میں نے کیا پایا۔اس وقت تم بھی سن لینا۔(سیر روحانی صفحہ 5-4 رقیم پر لیس یو۔کے) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک تو آمین پر بچوں کی نظم لکھی اور ایک ان کی شادی پر بھی لکھی تھی۔اس کے دوشعر ہیں جو میں سناتا ہوں آپ کو۔که الفت اس کی کم اس کا ٹوٹے چھٹ خواه کوئی دامن اس کا چھوٹے کلام محمود صفحہ 224۔شائع کردہ لجنہ اماءاللہ کراچی) یہ اللہ تعالیٰ سے ایک تعلق کی طرف توجہ دلائی تھی ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور اس تعلق کو انہوں نے شادی کے بعد بھی قائم رکھا جیسا کہ میں نے بتایا کہ بڑی دعا گو اور نیکیوں کو جاری رکھنے والی خاتون تھیں۔بلکہ مجھے امریکہ سے مسعود خورشید صاحب نے لکھا کہ ان کی اہلیہ نے 25 سال پہلے ایک خواب دیکھی تھی ان کو آواز آئی کوئی کہ رہا ہے۔بی بی امتہ القیوم ولی اللہ ہیں۔تو اللہ تعالیٰ سے تعلق اور ان کی نیکیاں تو ایسی تھیں یقینا جو اللہ والوں کے لئے نیکیاں ہوتی ہیں اور یہ صرف اس لئے تھا کہ اپنے عظیم باپ کی نصیحت پر ہمیشہ انہوں نے عمل کیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ابھی میں نماز جمعہ کے بعد ان کی جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا اور اس کے ساتھ ایک دو اور جنازے بھی ہیں۔ایک میجر افضال احمد صاحب ابن مکرم اقبال احمد صاحب مرحوم کا ہے جو 19 جون کو جنوبی وزیرستان میں جو ریت پسند یا طالبان جو ہیں ان کے خلاف جو حکومت کا آپریشن ہے اس میں شہادت پا گئے۔32 سال ان کی عمر