خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 297 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 297

خطبات مسرور جلد ہفتم 297 خطبہ جمعہ فرموده 26 جون 2009 کہا ہے کہ کھانا کھالیں۔کیونکہ فورا اطاعت گزاری تھی اس لئے نہ طبیعت چاہنے کے باوجود بھی آخری بیماری میں بھی فوری طور پر کھانا کھالیا۔تو اس حد تک ، باریکیوں کی حد تک اطاعت تھی ان میں۔بیماری کے دنوں میں انہوں نے اپنے اس بھانجے اور بیٹوں اور اس کے بچوں کو بہو کو بلایا اور اس نے لکھا ہے کہ تین گھنٹے تک مختلف قسم کی نصیحتیں کرتی رہیں اور پھر یہ ہے کہ ہمارا شکر یہ ادا کیا کہ تم لوگ میری بہت خدمت کر رہے ہو۔حالانکہ جو خدمت انہوں نے ان بچوں پر کی تھی وہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو ان بچوں کی ہوگی۔بہر حال یہ ان کی بڑائی اور شکر گزاری کا احساس تھا۔بڑی باریکی کی حد تک انہوں نے اس کا خیال رکھا۔اللہ تعالیٰ اس بچے کو بھی اور اس کے بچوں کو بھی، اس کی بیوی کو بھی ان کی نیکیاں جو حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کی اور صاحبزادی امتہ القیوم کی ہیں ان کی تربیت کے زیر اثر جاری رکھنے کی توفیق دے اور ان کی دعاؤں سے ہمیشہ یہ لوگ حصہ لیتے رہیں اور عاجزی اور انکساری جوان میں تھی وہ ان بچوں میں بھی ہمیشہ قائم رہے۔کچھ واقعات ہیں، جو انہوں نے خود ایک دفعہ لکھے ہیں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو آپ سے بڑا تعلق تھا، ہر بچے سے تھا، لیکن ہر ایک کے ساتھ اپنا اپنا اظہار تھا۔یہ کہتی ہیں کہ جب میری شادی ہوئی تو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کو لکھا کہ میں نے اپنی اس بچی کو 14 سال تک ہتھیلی کے چھالے کی طرح رکھا ہے۔اگر کوئی اس کی طرف دیکھتا تھا تو میری نظر فوراً اٹھتی تھی کہ اس آنکھ میں پیار کے سوا کچھ اور تو نہیں۔اب میں اسے تمہارے سپر د کرتا ہوں۔یادرکھنا اگر اسے کوئی تکلیف ہوئی تو میں برداشت نہیں کر سکوں گا۔مطلب یہ نہیں تھا کہ لڑائی کروں گا۔مطلب یہ تھا کہ مجھے دلی صدمہ پہنچے گا۔(سیرت و سوانح حضرت سید ہ امتہ الحی بیگم صاحبہ صفحہ 111-110 لجنہ اماءاللہ لاہور ) آپ اپنی اس زندگی میں ہی نہیں بلکہ بعد میں بھی۔تو یہ نمونے ہیں جو ہمارے ہر گھر میں جہاں اس قسم کے جھگڑے ہوتے ہیں ان کو بھی دیکھنے چاہئیں۔کہ جب کسی کی بچی کو لے کے آتے ہیں۔تو شادی کرنے والے کو بھی اور سسرال کو بھی ،لڑکے کو بھی اور لڑکی کے سسرال کو بھی بچوں کے جذبات واحساسات کا خیال رکھنا چاہئے۔کہ وہ بھی کسی کی بچیاں ہیں اور لاڈلی بچیاں ہیں۔اسی طرح جب ملتان کہتی ہیں میں گئی ہوں۔روزانہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا تار یا خط آیا کرتا تھا۔اچھا ایک دفعہ انہوں نے واقعہ کا ذکر کیا ہے اپنی ایک خواب کا کہ کوئی شخص مجھ سے کہتا ہے یعنی صاحبزادی امتہ القیوم صاحبہ اپنی خواب کا ذکر کر رہی ہیں۔کوئی شخص مجھ سے کہتا ہے کہ میں تمہاری ماں کو لینے آیا ہوں۔میں رورو کر اس کی منتیں کرتی ہوں کہ نہیں لے جانا۔وہ کہتا ہے کہ اچھا اگر یہ نہیں تو تمہارے ابا کو لے جاتا ہوں۔تو میں نے گھبرا کر کہا نہیں بالکل نہیں۔وہ کہتا ہے کہ تمہاری ایک بات مانی جاسکتی ہے۔ماں کو لے جانے دو یا باپ کو۔اس نے جب مجھ کو بہت مجبور کیا دونوں میں سے ایک کو رکھ سکتی ہو، دونوں کو رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو میں ماں کو دینے پر راضی ہوگئی اور پھر کہتی ہیں اس خواب کا اثر تھا کہ پھر اپنی امی سے بہت چھٹنے لگ گئیں۔یہ دس سال کی تھیں جب ان کی والدہ فوت ہوگئی