خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 532
خطبات مسرور جلد هفتم 532 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 نومبر 2009 اللہ تعالیٰ کی دوستی کا حقدار ہو جاتا ہے۔اور فرمایا اور میرے بندوں میں سے میرے اولیاء اور میری مخلوق میں سے میرے محبوب ترین وہ ہیں جو مجھے یادر کھتے ہیں اور میں انہیں یا درکھتا ہوں۔( مسند احمد بن حنبل جلد 5 حدیث عمرو بن الجموح صفحہ 354-353 حدیث 15634 عالم الكتب بیروت 1998ء ) پس اس حدیث میں خالص ایمان کی یہ نشائی بتائی گئی ہے کہ ان کا ہر عمل حتی کہ آپس کی محبت اور نفرت جو ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہوتی ہے۔ذاتی عناد اور ذاتی دشمنیاں نہیں ہوتیں۔اگر انسان اپنا جائزہ لے تو خوف سے کانپ جاتا ہے کہ ایک طرف تو ہم دعوی کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہیں۔دوسری طرف بہت سارے ایسے ہیں جن کے دلوں میں ذاتی عناد اور ذاتی بغض بھرے ہوتے ہیں، کینے بھرے ہوتے ہیں۔ایک دفعہ کسی کی غلطیاں دیکھتے ہیں تو معاف نہیں کرنا چاہتے۔اور جب کسی کو اللہ تعالیٰ کی رضا اس وجہ سے مل جائے کہ ہر فعل اس کا اللہ تعالیٰ کی خاطر ہوتا ہے تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کا دوست بن جاتا ہے۔صيا الله اسی طرح ایک اور حدیث ہے۔یہ بھی مسند احمد بن حنبل میں ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ہے نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین باتوں کو پسند فرمایا ہے اور تین باتوں کو نا پسند کیا ہے۔اس نے تمہارے لئے پسند فرمایا کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔اور جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملات کا نگران بنایا ہے اس کی خیر خواہی چاہو۔اور یہ کہ تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔اور اس نے تمہارے لئے فضول گوئی اور کثرت کے ساتھ سوال کرنے اور مال کو ضائع کرنے کو نا پسند فرمایا ہے۔( مسند احمد بن حنبل جلد 3 مسند ابی ہریرہ صفحہ 346 حدیث 8703 عالم الكتب بيروت 1998ء) اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم ہر ایک پر واضح ہے۔اس میں فرض عبادت بھی شامل ہے اور نفل عبادت بھی شامل ہے اور جو بھی عبادت سے بے تو جہگی برتے گا، اس پر توجہ نہیں دے گاوہ اللہ تعالیٰ کا ولی تو کسی صورت میں کہلانے والا بن ہی نہیں سکتا بلکہ ایک عام مومن بھی نہیں ہے جو ایمان کی طرف ابتدائی قدم ہے۔دوسری اہم بات اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ باتوں میں سے یہ بیان فرمائی کہ جسے تمہارے معاملات کا نگران بنایا جائے اس کی خیر خواہی چاہو۔اور نگران کون بنائے جاتے ہیں؟ نظام جماعت کی طرف سے مقرر کردہ ہر کارکن جو کسی بھی کام پر متعین کیا جاتا ہے وہ ایک حقیقی مومن کا نگران ہوتا ہے۔پس اس کے ساتھ مکمل تعاون اور اس کی خیر خواہی چاہنا ایک حقیقی مومن کا فرض ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے خدا کا دوست بننا چاہتا ہے۔یہ بات جہاں ایک عام مومن کو اطاعت کی طرف توجہ دلاتی ہے اور ہر قسم کے فساد سے بچنے کی طرف متوجہ کرتی ہے وہاں نگرانوں اور عہدیداروں کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے۔ایک خوف کا مقام ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر تمہاری خیر خواہی چاہ رہا ہے تو پھر تمہیں خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر کس قدر اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے انصاف کے تقاضے