خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 533 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 533

533 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 13 نومبر 2009 پورے کرنے ہیں اور نگرانی کا حق ادا کرنا ہے۔خیر خواہی صرف یکطرفہ عمل نہیں ہے بلکہ جب انصاف کا اعلیٰ ترین معیار قائم ہوگا نیتیں صاف ہوں گی ، اللہ تعالیٰ کی رضا عہد یداروں کو بھی مطلوب ہوگی تو ما تحت بھی اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے عہدیدار کی خیر خواہی چاہے گا۔بدظنیوں سے دُوری ہوگی اور محبت کی فضا پیدا ہوگی۔پھر فرمایا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔یہاں پھر عام مومن کو توجہ دلائی گئی ہے کہ نگران اور عہدیدار کی طرف سے خلاف مرضی باتیں ہو بھی جائیں تب بھی تمہاری طرف سے کوئی ایسا رد عمل ظاہر نہ ہو جو کسی قسم کے شر اور فتنے کا باعث بنے۔اور عہدیداروں کو بھی اس میں ہدایت ہے کہ تمہارے جو ر د عمل ہیں وہ بھی ایسے ہوں جن میں خدا تعالیٰ کا خوف ظاہر ہوتا ہو۔اللہ تعالیٰ کی جو رتی ہے یہ تو بنائی ہی اعمال صالحہ اور تقویٰ سے گئی ہے۔اس میں اپنے کسی مفاد اور بدعمل کی وجہ سے کمزوری کا باعث نہ ہو کہ جس سے پارٹی ٹوٹنے کا خطرہ ہو یا کسی شخص کا ہاتھ چھوٹ کر آگ کے گڑھے میں گرنے کا خطرہ ہو۔اللہ تعالیٰ کے دوست تو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے ساتھیوں کا ہاتھ پکڑ کر بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر فرمایا کہ نا پسندیدہ باتوں سے بچو کیونکہ یہ باتیں خدا تعالیٰ سے دور لے جاتی ہیں۔ان میں فضول گوئی ہے۔بیہودہ اور لغو باتیں ہیں۔ایک دوسرے پر اعتراضات ہیں، کیونکہ جب یہ باتیں پیدا ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رہتی پر گرفت ڈھیلی ہونی شروع ہو جاتی ہے۔پھر کثرت سوال اور مال کے ضیاع سے بھی منع فرمایا۔ایک مومن میں قناعت ہونی چاہئے اور دین کی راہ میں مالی قربانی کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔پھر ایک حدیث میں اللہ تعالیٰ کے بندوں کے مقام کا ایک عجیب نقشہ کھینچا گیا ہے۔حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے بعض ایسے ہیں جو نہ تو نبی ہیں اور نہ ہی شہید مگر انبیاء اور شہداء قیامت کے دن اللہ کے حضور ان کے مقام کی وجہ سے ان پر رشک کریں گے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بتائیں گے کہ وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں نہ کہ رحمی رشتہ داری کی وجہ سے اور نہ ہی ان اموال کی وجہ سے جو وہ ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔اللہ کی قسم ان کے چہرے نور ہیں اور یقینا وہ نور پر قائم ہیں اور جب لوگ خوف محسوس کریں گے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا اور جب لوگ غمگین ہوں گے انہیں کو ئی غم نہ ہوگا۔اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی الّا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ۔(سنن ابو داؤد كتاب البيوع ابواب الاجارۃ باب فی الرحن حدیث 3527) پس یہ لوگ اللہ کے ولی بنتے ہیں جن کا اٹھنا بیٹھنا، اوڑھنا بچھونا خدا تعالیٰ کی رضا ہو۔اور جب خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر تمام نیکیاں بجالائیں گے تو پھر یقینا ایسے لوگوں پر انبیاء رشک کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کے متبعین میں سے، ان کے ماننے والوں میں سے ایسے لوگ عطا فرمائے جو نیکیوں کے اعلیٰ معیار کو چھورہے ہیں۔انبیاء کی بعثت کا