خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 531 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 531

531 خطبہ جمعہ فرموده 13 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم سارے پردوں کو اپنے چہرے سے دُور کر دے گا اور اس کے سامنے آ جائے گا اور کہے گا اے میرے بندے لے میں یہ موجود ہوں۔میری طرف دیکھے۔پھر فرمائے گا میں نے اپنے فضل سے تجھے اپنی آگ سے آزاد کیا اور جنت کو تیرے لئے جائز کرتا ہوں اور فرشتوں کو تیرے پاس بھیجوں گا اور میں خود تجھے سلام کہوں گا۔پس وہ اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہو جائے گا۔اب تینوں قسموں کے مختلف گروپوں میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے خیال کے مطابق عمل کئے اور تینوں کو اللہ تعالیٰ نے ولیوں میں شمار کیا۔یہ تفصیلی حدیث ابن کثیر کی ہے جس کو حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر میں بھی نوٹ کیا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اس حدیث میں اولیاء کی مختلف قسمیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ایک جنت کا شوق رکھنے والے اور اس جنت کے حاصل کرنے کے لئے عمل کرنے والے۔دوسرے جہنم کا خوف رکھنے والے اور اس جہنم سے بچنے کے لئے عمل کرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہیں۔اور تیسرے خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا لوگ۔اور تینوں کو جب اللہ تعالیٰ جنت میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے تو فرماتا ہے یہ تمہارے عمل بھی نہیں بلکہ میں اپنے فضل۔تمہیں یہ سب کچھ دے رہا ہوں۔پس دیکھیں کہ ہر گروہ میں ایک ایک شخص آگے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کو حاصل کر کے جنت میں اپنے ساتھیوں سمیت داخل ہو جاتا ہے۔آخری گروہ جو خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا ہے یقیناً اس کے سردار آ نحضر تم ہی ہوں گے۔وفات کے وقت بھی آپ کے جو الفاظ ہم تک روایت میں پہنچے ہیں وہ یہی ہیں۔رفيق الأغلى، رفيق الاغلی۔اور آپ کی یہ سب باتیں ، اور وفات کے وقت یہ الفاظ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی محبت چاہئے تھی اور اس میں سب سے بلند ترین مقام آپ ہی کا تھا۔پس اولیاء اللہ کی بھی مختلف قسمیں ہیں۔لیکن بنیادی بات ایمان اور تقویٰ میں ترقی ہے اور انبیاء اللہ تعالیٰ کے وہ اولیاء ہیں جن کا ایمان کامل ہوتا ہے اور تقویٰ کا اعلیٰ نمونہ دکھاتے ہیں اور اس کی بھی اعلیٰ ترین مثال جیسا کہ میں نے کہا آ نحضرت ﷺ کی ذات ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر از حضرت مصلح موعود جلد سوم صفحہ 100-101 مطبوعہ ربوہ ) اولیاء اللہ کے بارہ میں احادیث میں مزید وضاحت بھی ملتی ہے کہ کون لوگ اللہ تعالیٰ کے ولی ہونے کے حقدار ہوتے ہیں اور کس طرح یہ مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔مسند احمد بن حنبل میں ایک حدیث ہے۔حضرت عمرو بن الجموح بیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بندہ اس وقت تک ایمان خالص کا حقدار نہیں ہو سکتا جب تک وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے کسی سے محبت نہ کرے اور اللہ تعالیٰ ہی کے لئے کسی سے بغض نہ رکھے۔جب تک وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے کسی سے محبت کرتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے کسی سے بغض رکھتا ہے تو وہ