خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 314 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 314

314 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 2009 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” افسوس ان لوگوں کو آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ الی میں یہ معنی بھول جاتے ہیں۔حالانکہ اس آیت میں پہلے مُتَوَفِّيكَ کا لفظ موجود ہے اور بعد اس کے رَافِعُكَ۔پس جبکہ صرف لفظ رافِعُكَ میں معنی موت لئے جا سکتے ہیں تو مُتَوَفِّيكَ اور رَافِعُكَ کے معنی کیوں موت نہیں ہیں۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 385 حاشیہ) پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: قطعی اور یقینی یہی امر ہے کہ حضرت مسیح بجسده العنصری آسمان پر نہیں گئے۔بلکہ موت کے بعد آسمان پر گئے ہیں۔بھلا ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا موت کے بعد حضرت یحی" اور حضرت آدم اور حضرت ادریس اور حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف" وغیرہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے یا نہیں ؟ اگر نہیں اٹھائے گئے تو پھر کیونکر معراج کی رات میں آنحضرت علیہ نے ان سب کو آسمانوں میں دیکھا۔اور اگر اٹھائے گئے تھے تو پھر نا حق مسیح ابن مریم کی رفع کے کیوں اور طور پر معنے کئے جاتے ہیں۔تعجب کہ توفی کا لفظ جو صریح وفات پر دلالت کرتا ہے جابجا ان کے حق میں موجود ہے اور اٹھائے جانے کا نمونہ بھی بدیہی طور پر کھلا ہے۔کیونکہ وہ انہیں فوت شدہ لوگوں میں جا ملے جوان سے پہلے اٹھائے گئے تھے۔اور اگر کہو کہ وہ لوگ اٹھائے نہیں گئے تو میں کہتا ہوں کہ وہ پھر آسمان میں کیونکر پہنچ گئے۔آخر اٹھائے گئے تبھی تو آسمان میں پہنچے۔کیا تم قرآن شریف میں یہ آیت نہیں پڑھتے وَرَفَعُنهُ مَكَانًا عَلِيًّا۔کیا یہ وہی رفع نہیں ہے جو سیح کے بارہ میں آیا ہے؟ کیا اس کے اٹھائے جانے کے معنی نہیں ہیں؟ فَاتَّی تُصْرَفُونَ (یونس: 33) “۔(ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 438) پس یہ نہ صرف عقلی دلائل ہیں بلکہ قرآن کے صحیح فہم وادراک سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ ثابت فرمائے ہیں۔ایک صاحب جو اپنے آپ کو بڑا عالم دین کہتے ہیں ان کا پہلے بھی میں ایم ٹی اے کے حوالہ سے ایک دفعہ ذکر کر چکا ہوں جو یہ مانے کو تیار نہیں کہ رفع جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہے۔ہمارے ایک احمدی نوجوان جو اُن سے انٹرویو لینے گئے تھے ان سے انہوں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ میں تمہارے علماء سے زیادہ پڑھا لکھا ہوں اور مرزا صاحب کی کتابیں بھی میں نے بہت پڑھی ہیں۔اور خلاصہ یہ تھا کہ حضرت مرزا صاحب کی تحریریں مجھے اس بارہ میں قائل نہیں کر سکیں۔ہدایت دینا تو خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ابوجہل اور بہت سے سرداران مکہ جو تھے اگر وہ آنحضرت ﷺ کی ذات میں نور نہیں دیکھ سکے یا قرآن کریم کی تعلیم کو ایک شاعرانہ کلام کہتے رہے تو وہ ان کی عقل کا قصور ہے۔ان کی بد قسمتی تھی۔آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی شان میں تو اس سے کوئی حرف نہیں آتا کیونکہ جن کو