خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 315 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 315

خطبات مسرور جلد هفتم 315 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 2009 اللہ تعالیٰ نے نور فراست عطا فرمایا ، جن کی فطرت سعید تھی ، انہوں نے قبول کیا۔پس اگر آپ کے غلام کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے تو یہ بھی کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: قرآن شریف میں ہر ایک جگہ رفع سے مراد رفع روحانی ہے۔بعض نادان کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے کہ وَرَفَعُنهُ مَكَانًا عَلِيًّا“۔ایک تو مثال دی تھی نواب صدیق حسن خان کی کہ انہوں نے اس کو رفع روحانی قرار دیا۔لیکن مسلمانوں میں بھی بعض ایسے لوگ اُس زمانے میں تھے اور اب بھی شاید بعض ہوں جو یہ کہتے ہیں وَرَفَعُنهُ مَكَانًا عَلِيًّا جو ہے اس سے مراد روحانی رفع ہے۔فرمایا کہ اس پر خود تراشیدہ قصہ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص اور لیس تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے مع جسم آسمان پر اٹھا لیا تھا۔اب یہ یہودی نظریہ تو ہے جو میں نے بیان کیا لیکن اگر کسی مسلمان کا یہ نظریہ ہے تو پھر اس کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ کس کی پیروی کر رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں لیکن یادر ہے کہ یہ قصہ بھی حضرت عیسی کے قصے کی طرح ہمارے کم فہم علماء کی غلطی ہے اور اصل حال یہ ہے کہ اس جگہ بھی رفع روحانی ہی مراد ہے۔تمام مومنوں اور رسولوں اور نبیوں کا مرنے کے بعد رفع روحانی ہوتا ہے۔اور کافر کارفع روحانی نہیں ہوتا۔چنانچہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمُ اَبْوَابُ السَّمَاءِ “ (سورۃ اعراف 41 ویں آیت میں ہے یعنی ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے)۔کا اسی کی طرف اشارہ ہے۔اور اگر حضرت اور لیس معہ جسم عنصری آسمان پر گئے ہوتے تو بموجب نص صریح آیت فِيْهَا تَحْيَوْنَ “ ( کہ اس میں جیو گے۔یہ قصہ آدم کے بارہ میں بیان ہو رہا ہے۔کہ یہیں جیو گے ، یہیں زمین میں مرنا ہو گا۔یہ سورۃ اعراف کی آیت 26 ہے۔فرمایا کہ ” جیسا کہ حضرت مسیح کا آسمانوں پر سکونت اختیار کر لینا ممتنع تھا۔ایسا ہی ان کا بھی آسمان پر ٹھہر نامتنع ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ اس آیت میں قطعی فیصلہ دے چکا ہے کہ کوئی شخص آسمان پر زندگی بسر نہیں کرسکتا۔بلکہ تمام انسانوں کے لئے زندہ رہنے کی جگہ زمین ہے۔علاوہ اس کے اس آیت کے دوسرے فقرہ میں جو فِيهَا تَمُوتُونَ ہے یعنی زمین پر ہی مرو گے، صاف فرمایا گیا ہے کہ ہر ایک شخص کی موت زمین پر ہوگی۔پس اس سے ہمارے مخالفوں کو یہ عقیدہ رکھنا بھی لازم آیا کہ کسی وقت حضرت ادریس بھی آسمان پر سے نازل ہوں گے۔اگر یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت ادریس آسمان پر زندہ ہیں تو پھر ان کو بھی حضرت عیسی کی طرح نیچے اترنا ہو گا۔فرمایا کہ حالانکہ دنیا میں یہ کسی کا عقیدہ نہیں ( یعنی یہ عقیدہ نہیں کہ حضرت ادریس دوبارہ اتریں گے ) فرمایا کہ طرفہ یہ کہ زمین پر حضرت ادریس کی قبر بھی موجود ہے جیسا کہ حضرت عیسی کی قبر موجود ہے“۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 237-238 - حاشیہ)