خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 313 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 313

313 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم بننے کا معیار ہے تو حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس معیار پر پورا اترتے ہیں اور اگر ادریس وہ مقام حاصل نہیں کر سکے تو پھر عیسی کی الوہیت بھی ثابت نہیں ہوتی۔جہاں تک قرآن کریم کا سوال ہے تو قرآن کریم کی جو آیت میں نے ابھی پڑھی ہے اس میں حضرت اور لیس علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر ہے اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت زیادہ شاندار رفع کی طرف نشاندہی کرتی ہے۔پس بائبل اور قرآن دونوں میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ بھی کسی نبی کے اس طرح اٹھائے جانے کا ذکر ہے اور یہ بات اس چیز کا رڈ کرتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کوئی غیر معمولی ہستی یا شخصیت تھے یا ان کا کوئی غیر معمولی مقام تھا۔عیسائی اب نہیں مانتے اور عیسائیت کی تعلیم اتنی تو ڑی مروڑی جا چکی ہے کہ انہوں نے تو نہیں مانالیکن جو مسلمان ہیں ان کو تو اس آیت سے راہنمائی لینی چاہئے۔خدا تعالیٰ کا تو یہ وعدہ ہے اور ایک سچا وعدہ ہے اور قیامت تک سچار ہے گا کہ قرآن کریم کی تعلیم میں کبھی بھی تحریف نہیں ہوسکتی۔اللہ تعالیٰ خود اس کی حفاظت کے سامان فرماتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے راہنمائی کے لئے اپنے ایک برگزیدہ کو بھیج دیا تو اس وقت پھر کوئی بھی تو جواز نہیں رہتا کہ غلط قسم کی تفسیر میں اور تشریح کی جائے۔یہاں میں ضمناً یہ بھی بتا دوں کہ یہودی لٹریچر میں حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام جن کو یہ حنوک کہتے ہیں ان کے بارہ میں کافی تفصیل موجود ہے اور واضح لکھا ہے کہ انہیں دنیا کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے بھیجا لیکن جب دنیا گناہوں سے بھر گئی تو خدا تعالیٰ نے انہیں آسمان پر اٹھا لیا۔بہر حال یہ تو یہودیوں کا نظریہ ہے۔جہاں تک ہمارا سوال ہے ہم تو انہیں جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا خدا تعالیٰ کا سچا نبی سمجھتے ہیں۔جنہیں خدا تعالیٰ نے ایک بلند مقام عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ ہر نبی کو جب اس دنیا میں بھیجتا ہے تو اس دنیا میں بھی بلند مقام عطا فرماتا ہے جو اس کی روحانی بلندی کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔تا کہ دنیا کی اصلاح کر سکے اور جن لوگوں میں بھیجا گیا ہے ان کی اصلاح کر سکے۔اور اگلے جہان میں بھی انبیاء کو ایک ارفع واعلیٰ مقام ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَرَفَعُنهُ مَكَانًا عَلِيًّا ( یہ سورۃ مریم کی 58 ویں آیت ہے۔یعنی ہم نے اس کو یعنی اس نبی کو عالی مرتبہ کی جگہ پر اٹھا لیا۔اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ جو لوگ بعد موت خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں ان کے لئے کئی مراتب ہوتے ہیں۔سو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس نبی کو بعد اٹھانے کے یعنی وفات دینے کے اُس جگہ عالی مرتبہ دیا۔نواب صدیق حسن خان اپنی تفسیر فتح البیان میں لکھتے ہیں کہ اس جگہ رفع سے مرا در فع روحانی ہے جو موت کے بعد ہوتا ہے۔ورنہ یہ محذور لازم آتا ہے کہ وہ نبی مرنے کے لئے زمین پر آوے“۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 385۔حاشیہ )